رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

20 February 2008 / 11 Safar 1429

آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.
 

خاموش انقلاب یانقارہ خدا


بولتی زبانوں ،سنتے کانوں ،دیکھتی آنکھوں عوام کے فیصلے نے ،زبانیں گنگ ،ہوش وحواس رخصت اور مواخذے کے خوف سے کپکپاہٹ طاری کردی ہے ۔عوام کے ووٹ کی فیصلہ کن رونمائی اور گزشتہ سالوں کے شب وروز کی آبلہ پائی نے بڑے بڑے بول بولنے والوں کی ”بولتی بند “کرکے رکھ دی ہے۔بڑے بڑے شملے نیچے،پگوں کی کریزیںگڈ مُڈ ،نئی شیروانیوں کی سلوٹیں پڑی رہ گئیں،جبہ ودستار کی شکنیںحسرت کانشان بن گئیں،جاگیرداروں وڈیروں کی دوکانداریاںبند ،سیاست کو گھر کی ”لونڈی“ سمجھنے والے طرم خان ،پھنے خان ، ننھے خان اورمنھے خان آج سیاسی طورپر ”عبرت کا نشان“ بنے راہ کی دھول بن گئے،مٹی مٹی ہوگئے۔عوام نے نفرت ،غم وغصے کے دھکاﺅ سے لوٹوں ،لٹیروں ،غیرملکی ایجنٹوں کو اپنے جوش جنوں کے الاﺅ میں” پھڑکا “کر سیاست سے ہی آﺅٹ کرکے ثابت کردیا کہ کسی” غیرملکی ٹاﺅٹ“ کی مستقبل میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔


کہا جاتا ہے کہ ”آواز خلق نقارہ خدا“ ہوتا ہے ۔اس محاورے کا اس سے بہتر استعمال اور” عملی مظاہرہ“ شاید اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آیاہوگا ۔ق لیگ والے عوام کو اعدادوشمار کے گورکھ دھندے ،TVاشتہارات کے زوردار ہتھکنڈے اور سیاسی مہم کے دوران گلیوں ،سڑکوں کی تعمیر کے پھندے سے بھی اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر راغب نہ کرسکے۔اکثر سیاسی لیڈر عوام کوہمیشہ سے ہی ”غچہ “دیتے رہے۔ہر آنے والے ضرورتمند کووعدوں کے” لولی پاپ کا بچہ“ ہی دیتے رہے۔جس کے نتیجے میں عوام کو ”بچہ سقہ “جیسی حکومت اور سکھا شاہی جیسی ”افسرشاہی “ہی نصیب ہوئی۔گزشتہ ساڑھے آٹھ سال کی محرومیوں ،تنہائیوں ،زیادتیوں کا بدلہ عوام نے ووٹ کی طاقت سے یوں لیا کہ لوٹوں کو ووٹوں کی چوٹوں سے ”چاروں شانے چت “کرکے اُنکی” سیاسی پٹائی“ اس مہارت سے کی ہے کہ دس باروردی میںصدر منتخب کرنے والوں کا” مقدر“ سٹپٹائی اور تنہائی ہی بنی ہے ۔ہے نا ”عبرت“ کا مقام ۔؟؟
ویسے تو خدا بھی ظالم کی” رسی دراز“ کرکے اسے آزماتا ہے۔ اور اپنی” حکمت “کے تحت جب تک چاہے اُسے بھگا بھگا کے تھکاتا ہے ۔پھر اچانک اسے کھینچ کر مکافات عمل کے شکنجے میں بھنچ لیتا ہے ۔

لیکن گزشتہ دور حکومت نے جس طرح ملک کے ہر طبقہ فکر کو پریشان کیا،پوری مہذب دنیا کو اپنے طور طریقوں سے حیران کیا،مذہبی ودینی طاقتوں کو چھیڑا ،آئین ،قانون وعدلیہ کو اُدھیڑا ،ملک کے محسن اے کیو خان کو ”اڑِنگا“لگایا ،جسٹس افتخار محمد چودھری سے ”متھا “لگایا،عوام کا جینا دوبھر کیا،امن وامان کا حشر کیا،قتل وغارتگری کا بازار گرم کیا ،یہودیوں کے ساتھ معاملات کو نرم کیا،جامعہ حفضہ اور دیگر مدارس کو گرایا،لال مسجد میں خونی آپریشن کرایا،قرآنی اوراق کو گندے نالے میں بہایا،معصوم طالبات کو زندہ جلایا،حفاظ قرآن کو مروایا،محب وطن لوگوں کو پھڑکایا،ملک کے استحکام کو داﺅ پہ لگایا،اشیاءخوردونوش کی مہنگائی سے عوام کو ستایا،آٹے ،بجلی ،گیس کے بحران سے عوام کے صبر کو آزمایا۔جس کے نتیجے میں یہ ”خاموش انقلاب “آیا۔


زور آور مارے بھی اور رونے بھی نہ دے والی”آکٹوپس “نے قوم کو ہر پہلو سے اپنے جبڑوں میں دبوچ رکھا تھا۔عوام فاقہ کشی ،خودکشی ،خودسوزی پہ مجبور تھے۔اوپر سے امن وامان کی زبوں حالی ،اخلاقی ،سماجی ،اسلامی قدروں کی پامالی نے ہر محب وطن کو تڑپا اور رُلا دیا تھا۔دور دور تک گھپ اندھیرا ،چہارسُو حبس آلود موسم ،مایوسی ،بے حسی اور غیرآئینی اقدام کے ظلم نے بہاروں کی شبنمی پھوار کی رِم جھِم اور آزاد پرندوں کی خوش الحان رِدھم جیسی ترنم ریزی سے قوم کو” محروم“ کرکے رکھ دیا تھا۔عوام کے کان کسی خوش آئند خبر کو ،آنکھیں کسی فرحت بخش منظر دیکھنے کو” ترس“ گئی تھیں۔ریاستی ظلم اور جبر نے قوم کی قوت برداشت اور صبرکی آخری حدوں تک رسائی حاصل کرلی تھی یہی وجہ ہے کہ برسوں کی آشنائی ،تعلقات کی دلربائی کے باوجود عوام ”خود ساختہ“ حکومتی خیرخواہی کے جھانسے میںنہ آئے اور سیاسی بزرجمہروں کے” پانسے “پلٹ دیے۔


بدقسمتی صرف اور صرف یہ ہے کہ حکمران اور اُنکے حواری” سب اچھا “کی راگ سننے کے اتنے عادی اور خوشامدی ٹولہ جی حضوری اور یس سر کے نعرے الاپنے میں اتنے ”گھاگ“ ہوتے ہیں کہ وہ کسی تنقید اور مخالفت کو اپنی ذاتی اہانت محسوس کرتے ہیں۔اقتدار واختیار کا جوش اُنکے ہوش کو رخصت کرکے” لیلائے اقتدار کے ہلکورے“ سے مدہوش کرکے رکھ دیتا ہے۔اور” میں ہی میں“کی بات اُنکی ذات کا خاصہ بن کررہ جاتی ہے۔جس کاخلاصہ موجودہ الیکشن کی طرح نکلتا ہے کہ بڑے بڑے بُرج اُلٹ جاتے اور ”قد آور سیاسی جِن“چُرمرا کے” بونے“ بن کررہ جاتے ہیں۔سب سے پہلے پاکستان ،خوشحال پاکستان کے دعوے اور ”بات ہے احساس کی“کے مفروضے کا سارا اثاثہ عوامی رائے کے سمندر میں بہہ جاتا ہے۔اسے کہتے ہیں۔ات خدا دا ویر


قارئین محترم !!زبردستی ملک بدر نوازشریف کی الیکشن میںکامیابی اور سیاسی، عوامی عزت ،بی بی کی ہلاکت پراُس کے ورکر کی حدت،اے این پی کی سرحدمیں نئے سِرے سے سیاسی شدت، حکمرانوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اب انہیں کیسے اپنی” باعزت واپسی“ کا راستہ نکالنا ہے۔مجموعی طور پر یہ پُرامن اور شفاف الیکشن ہیں گو انفرادی دھاندلی،سرکاری اختیارات کے استعمال کی چاندنی کے بے شمار ثبوت موجود ہیں۔ہلاکتیں بھی ہوئیں ،بیلٹ باکس بھی چھینے گئے،جعلی ووٹ بھی ڈالے گئے۔لیکن ایک” اہم ترین بات “یہ ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی خصوصی شفقت اور مہربانی کی وجہ سے خفیہ اداروںاوردستانہ پوش اہلکاروں نے اس الیکشن کی گیم میں اپنا کوئی” رول“ ادا نہیں کیا اور وہ صرف اور صرف پروفیشنل پے رول پہ رہے۔

یہ ایک نئی بات ہے جو” قابل داد“ ہے اگر ہر ادارہ اسی طرح ملکی وقار کو ملحوظ رکھے تو کوئی ڈکٹیٹر یا آمر سرکاری ہتھیار سے میرے ملک کی بہارکوکبھی بھی خزاں میں نہیں بدل سکے گا۔عوام کے ”خاموش انقلاب یا نقارہ خدا“کی ابتداءسے معلوم ہوتا ہے کہ ارض پاکستان کے” لشکاراور بناﺅ سنگھار“ کی منزل قریب آچکی ہے۔ساتھ ہی ساتھ یوم حساب اور احتساب کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔کیوں قارئین اب تو آپ بھی پُرامید ہیں نا۔؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035