رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

11 February 2008 / 03 Safar 1429

 آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

الیکشن ہونگے ۔۔؟؟ نہیں ہونگے۔۔۔؟؟؟

سیاسی موسم کی ”بے اعتباری“ کا عالم یہ ہے کہ الیکشن میں فقط چند روز باقی ہیں اور لوگ ابھی تک” تذبذب “کا شکار ہیںکہ ملک کی موجودہ ابتر صورتحال ،خودکش دھماکوں کی شروعات ،مخالفوں کے جلسوں پہ فائرنگ کے واقعات ،سکیورٹی پہ عوام کے عدم اطمینان اور جانی ومالی خوف وہراس وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے”الیکشن ہونگے۔؟الیکشن نہیں ہونگے کا ”سوالیہ نشان“ اپنی جگہ موجود ہے۔

 
اگرچہ محترمہ بینظیر کے قتل کے بعد الیکشن کا انعقاد ایک دفعہ” غیریقینی “ہوگیاتھا۔اور قومی حکومت کا غلغلہ مچا ہواتھاکہ” حصہ بقدر جُثہ“ تمام سیاسی جماعتوں کو شامل کرکے سیاسی استحکام پیدا کرکے باہمی مشاورت سے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ الیکشن کروائے جائیںلیکن یہ تجویز سِرے نہ چڑھ سکی ۔اور حکومت نے نئی تاریخ یعنی18فروری2008 مقررکردی۔امیدوار پہلے” ہِلے“ میں تمام زراراہ خرچ کرچکے تھے۔انہیں دوبارہ نئے سِرے سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کرنا پڑا۔


اس دفعہ پوری دنیا سے غیرجانبدارانہ مبصرین کی ٹیمیں پاکستان پہنچ رہی ہیں۔جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں پورے ملک کا دورہ کرنے اور ”متنازعہ “پولنگ بوتھوں پرجاکر مانیٹرنگ کا ”حق “ہے۔شفاف ٹرانسپرنٹ بیلٹ باکس اور ووٹنگ سکرینوں کے ذریعے انتخاب کے عمل کو براہ راست دکھانے کے اقدامات بظاہر اچھا ”شگون“ ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومتی مراعات ،سرکاری وسائل کا ساتھ،سابقہ اعلیٰ عہدوں کی سوغات کی تکون بھی اپنا ”رنگ “دکھا رہی ہے۔


پوری دنیا میں خصوصاََ مہذب دنیا میں الیکشن کے ذریعے لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کرکے بڑے بڑے ”طرم خانوں“ کی ہوا خارج کردیتے ہیں۔پاکستان وہ واحدملک ہے جہاں حکومتی اور سرکاری وسائل کی بھرماراور اپنی پسندیدگی کے ہتھیار کے استعمال سے اقتدار کو طول دیکر قوم کوانکی سادگی اور بھول کی” سزا“ دیکر غریب عوام کو فاقہ کشی کا شکار کرکے موت کے پھندے سے جھول جانے پر”مجبور“ کردیا جاتا ہے۔


الیکشن کمیشن کاکام غیرقانونی اقدام کو روکنا اور قاعدے قانون کی خلاف ورزی پہ ٹوکنا ہے۔لیکن یہاں کا” باوا آدم ہی نرالا ہے“۔یہاں بڑے بڑے ہورڈنگ بورڈ ،قد آور تصاویر ،وال چاکنگ کا بے تحاشہ استعمال ،ایڈورٹائزنگ کے ضمن میں قانون کی دھجیاں اُڑانا ،ہیلی کاپٹروں پر انتخابی مہم چلانا،پانی کی طرح پیسہ بہانا،شان وشوکت اور امارت کا رعب دکھانا ،پراڈو،پجارو،گرینڈ کروزرکے کاروان چلانا ،ایڈہاک کی بنیادوں پرسینکڑوں ریٹائرڈ سرکاری آفیسر بھرتی کرنا ،پولیس کے من مرضی کے استعمال سے حریفوں کو زوال دکھانا معمول کا” تماشہ“ ہیں۔


کبھی لوگ ووٹ کے ساتھ نوٹ بھی نچھاور کیا کرتے تھے۔لیکن الیکشن کو دھاندلی سے سلیکشن میں بدلنے کی ”روایت بد“نے عوام کے صبر اور برداشت کی حد کردی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ ووٹر بہت پکا ہے۔اور وہ ہر اُمید وار کو” بچہ“ دینے کا وعدہ ہی کرتا ہے۔کئی سیانے کہتے ہیں کہ ایک”خاموش انقلاب“ کی اُمید اس الیکشن کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔اور لوگ اتنے بھی ”نیانے“نہیں ہیں کہ وہ ملک کی موجودہ ابتر اور بگڑی ہوئی معاشی اور سیاسی صورتحال کے ذمہ داروں کو ”معاف “کردینگے۔


کوئی مانے یا نہ مانے مگر ہم جانتے ہیں کہ الیکشن ”شاید“مقررہ تاریخ کو ہی ہونگے۔پہلی دلیل یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق حکومت پنجاب نے ابھی سے UNOکی گاڑیاں الیکشن مہم کیلئے پکڑ لی ہیں۔پہلے عام ٹرانسپورٹ بحق سرکار ضبط کی جاتی تھےں۔اس دفعہ بین الاقوامی ادارے” نیٹو “کی گاڑیاں بھی سرکاری امیدواروں کی عزت افزائی بلکہ” عزت بچائی “کیلئے کام آئینگی۔عالمی ادارے کے شدید احتجاج پروزارت خارجہ کا پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو فوری گاڑیاں چھڑوانے کا حکم دینا پڑا۔اور آئندہ اس اقدام سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی۔


الیکشن ہونے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ شہبازشریف نے پوسٹل بیلٹ پیپر میں دھاندلی کی ویڈیو میڈیا کو باقاعدہ طور پر جاری کردی ہے۔اس ویڈیو فلم میں پنڈی بھٹیاں میں اساتذہ ق لیگ کے امیدوار کے انتخابی نشان سائیکل پر دھڑادھڑمہریں لگارہے ہیں۔چونکہ جیلوں میں بند قیدی حکومتی اسیر ہوتے ہیں

اور سرکاری اہلکار تو حکومتی حکم میں” لکیر کے فقیر“بننے پر مجبور ہوتے ہیں۔اس طرح سرکاری امیدواروں کو جو لاکھوں ووٹوں کا فائدہ ہوتا ہے وہ مخالف کے منہ کا ”ذائقہ خراب“ کردیتاہے۔


قارئین محترم !الیکشن قوانین کی پامالی اور الیکشن کمیشن کی بے چارگی اور زبوں حالی سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ الیکشن ضرور ہونگے۔ورنہ کوئی دیوانہ ہی کروڑوں روپے انتخابی مہم میں جھونک کر” پھونک“ سکتا ہے۔بی بی سی تو ویسے ہی بک بک کرتا اور ”جھک پہ جھک “مارتا ہے کہ عام انتخابات ضرور ہیں مگر عوام کوکیافائدہ۔انہیں تو آٹا لائین میں لگ کر،موم بتی خاک چھان کر اور گزرنے کا راستہ ٹریفک جام سے نکالنا پڑتا ہے۔دھواں ،گندگی اور ٹوٹی سڑکیں اس کے علاوہ ہیں۔صاف پانی نایاب ہے۔بی بی سی کو اندازہ ہی نہیں کہ تبھی تو عوام الیکشن کی طرف جارہے ہیں کہ بد حالی کے ذمہ داروں کوانکے انجام تک پہنچائےں۔

پھر بھی یہ ابہام کہ الیکشن ہونگے۔؟نہیں ہونگے۔؟کا بھی کوئی سوال ہے بھلا۔؟؟ےہ توہماراخےال ہے ۔قارئین بتائیں تو ویسے آپکا کیا خیال ہے۔الیکشن ہونگے ۔؟نہیں ہونگے۔؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035