رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

23 January 2008 / 13 Muharram 1429

 آف دی ریکارڈ :رانا محمدابراہیم نفیس
ranaminafees313@hotmail.com

فاقے ،ڈاکے ،دھماکے اور لاشے


یوں لگتا ہے گویا کسی” بدروح کی نحوست “کا سایہ پورے ارض وطن پہ چھا گیا ہے” اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی “تو بہت پرانی کہاوت ہے۔ اب تو ہمارے معاشرے کی سیاسی ،اقتصادی ،معاشی اور اخلاقی ”ابتری“ کا وہ عالم ہے کہ اس بوجھل فضاءمیں چین کی سانس لینا محال ہے۔

یہ سارا کمال اخلاقی مچھندروں ،معاشی قلندروں ،آئینی بزرجمہروں اوربے پیندے کے سیاسی لوٹوں کا کیا دھرا وبال ہے۔جس نے روشن خیال پاکستان کا ”حلیہ “بگاڑ اور قوم کو بھوک ننگ،لوٹ مار،فاقہ کشی کا شکار بنا کر وراثت میں فاقے ،ڈاکے ،دھماکے اور لاشے جیسے سنگین بحران کے جال میں الجھا کر پتھروں کے دورکے زوال میں دھکیل دیاہے۔

سونے کی چڑیا پنجاب پانچ دریاﺅں کی سرزمین جس کے مکین” اناج گھر“میں رہ کر گندم کے دانے دانے کو” ترس“ رہے ہیں۔آٹا 20تا 25روپے کلو بِک رہاہے۔ پنجاب میں تو پھر صورتحال اب کچھ بہتر ہے لیکن ملک کے دوردراز کے حصوں میں لوگ آٹے کے حصول کیلئے لائنوں میں لگ کر ذلیل وخوار ہورہے ہیں۔

لبالب بھرے بلکہ اُچھلتے ہوئے خزانے کا رونا رونے والے آج کیوںاندھے ہوگئے ہیں۔جو انہیں قومی اخبارات میں چھپنے والی ایک بزرگ عُمر شخص کی فوٹو نظر نہیں آتی جو کئی گھنٹے لائن میں لگ کر جب آٹا خریدنے لگا تو اُسے پتہ چلا کہ آٹا اُسکی قوت خرید سے باہر ہے ۔اُس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اور اُس کا رعشہ سے کانپتا ہوا جسم بلند وبالا دعوے کرنے والے بے حس اور” مُردہ ضمیر“ حکمرانوں کوکیوں نظر نہیں آتاجو کہتے ہیں کہ سب اچھا ہے۔؟؟

یہ بات بالکل حقیقت ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا بلکہ ”پتھر“ ہوتا ہے۔وگرنہ شاید کسی صاحب اقتدار واختیار کا دل ”بے اختیار“ ہوہی جاتا کہ کبھی کبھار پتھروں میں سے بھی پانی پھوٹ پڑتا ہے۔لیکن یہاں تو عذاب صرف اور صرف کمزور ،بے بس ،لاچار اور سفید پوش طبقہ کے اوپر ہی ٹوٹ پڑتا ہے۔

جڑانوالہ میں یوٹیلٹی اسٹور سے آٹا نہ ملنے پر بھوکے بچوں کی ماں نے دلبرداشتہ ہوکر اپنے دوپٹے کے پھندے سے خودکشی کی کوشش کی جو موقع پرموجود سینکڑوں لوگوں نے بروقت ناکام بنا دی ۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بیوائیں ،یتیم اور مفلوک الحال لوگ خصوصی طور پر فاقہ کشی کا شکار ہیں۔اور کئی جگہوں پرلوگ آلو اور جوار کھاکر گزارا کررہے ہیں۔ جبکہ حکمرانوں کو فقط اپنی ”کھال“ بچانے اور حکومت سنبھالنے سے ہی ”فرصت“ نہیں ہے۔

وارداتیں اور گھاتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔انفرادی وارداتوں کے ملزموں کو ڈکیت اور چور کہتے ہیں۔ملکی اور قومی خزانوں کو ”شیرمادر“ سمجھ کر ہڑپ کرجانے والے ”معززین “کہلاتے ہیں۔

ملک توڑنے والے ،بنکوں کے ڈیفالٹر ،عوام کا روپیہ غصب کرنے والے ،وفاداریوں کا نیلام گھر سجانے والے ،عوامی ہلاکتوں کے جمعہ بازار لگانے والے،لوٹ مار کے اتوار بازار سنوارنے والے،اشیائے خودونوش کا اسٹاک کرنے والے ،روپے کے بل بوتے پر گندم، چاول ،چینی ،سیمنٹ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والے قوم کے” خیرخواہ “اور سیاستدان کہلاتے ہیں۔

جب ”چور اورکُتی“اشتراک کرلیں،جب گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ،جب چوکیدار مالک کو نکال باہر گھر پر”قبضہ “کرلے تو اُنکی دیکھا دیکھی بھوک اور افلاس سے ستائے ، فاقہ کشی اور بےروزگاری سے تلملائے ہوئے نوجوان بھی” گمراہ کن“ راستے پہ چل پڑتے ہیںنتیجتاً قوم کو فاقے کے ساتھ ساتھ ڈاکے بھی ستاتے اور رُلاتے ہیں۔

فاقہ کشی ،بھوک ،لاچاری سب سے بڑی بیماری ہے۔بنکوں کی رقوم سے گندم کو ذخیرہ کرنے والے دیوث ،خبیث اور بے حس ”انسان نما شیطان“ مختلف اسکینڈلز کے حوالے سے شہرت حاصل کرنے والے ملک دشمن سیاستدان ،منافق سیاسی بادشاہ گر،بہروپیئے ،خلیفے،لوٹے، سیاسی پہلوان جنہوں نے اپنی مکروہ اور حرام تجارت سے اپنی تجوریوں اور بنک اکاﺅنٹ کو بھرنے کی جسارت کی اُنکی اس ”شرارت“ نے عوام کی جسمانی حرارت کو ٹھنڈا کرکے انہیں فاقہ کشی اور موت کی وادی میں دھکیلنے کی کوشش کی۔چنانچہ بھڑکے ہوئے نوجوان ”پیٹ کا جہنم“ بھرنے کیلئے لوٹ مار ،چھینا جھپٹی اور ڈکیتیوں پر اُتر آئے۔

فاقے ،ڈاکے اور اُس کے ساتھ ساتھ دھماکے بھی ہمیںامریکی یارانے کے نذرانے کے” جہیزمیں تحفے “کی صورت میں ملے۔پہلے دہشت گردی کی جنگ ان ممالک کی اپنی زمین پر متحارب گروپوں کے ساتھ چل رہی تھی۔وہ جو بورہے تھے وہی کاٹ رہے تھے۔

لیکن یکایک ہمیں بیٹھے بٹھائے یورپی یونین اور دیگر مغربی ممالک سے” محبت کی پینگیں“بڑھانے کی جو رسیلی اور جوشیلی چاٹ لگی۔ اُسکی مٹھاس نے ہمارے روشن خیال حکمرانوں کی ہوس اقتدار کی” پیاس“ تو ضرور بجھا دی ۔لیکن خودکش دھماکوں کی کٹھاس نے ملک کے امن وامان کی ”بنیاد“ ہی ہلادی۔اس کے باوجود ”خون آشام بھیڑیے “امریکہ کی ”مسلمان کُشی کی پیاس“ مٹنے میں نہیں آتی اور وہ ہماری سرزمین کو استعمال کرکے اپنے مذموم ارادوں کے حصول میں مصروف ہے۔

ان خودکش دھماکوں سے لاشوں میں بدلنے والے بھی انسان ہیں۔لوتھڑوں میں درختوں کی شاخوں سے چمٹنے والی بوٹیاں کسی معصوم بچے کی ابی جان کی ہیں ۔کٹی پھٹی باقیات کسی کمسن پھول سی بیٹی کے بابل کی ہیں۔بے سر جسم کسی سہاگن کے سر کے بے تاج بادشاہ کا ہے۔بے دھڑ جسم والا یہ نوخیزچہرہ کسی ماں کا آفتاب اور کسی بہن کا ماہتاب ،کسی بزرگ کی بڑھاپے کی لاٹھی ہے۔یہ ضعیف العمر لاشہ کسی بزرگ خاتون کے زندگی کے سہارے کی چادر ہے۔اور یہ بےگناہ خاتون کی میت نہ جانے کتنے بچوں کی جنت ہے۔

آخر قوم کا قصور کیا ہے۔جو زمین وآسمان کی بلائیںاور وبائیں پاکستانی قوم کو دائیں بائیں سے” گھیرے “میں لیے ہوئے ہیں۔

قارئین محترم !!فاقے ،ڈاکے ،دھماکے اور لاشے کب قوم کا خون چوسنے والی ان جونکوں سے پاکستان کو” چھٹکارہ“ ملے گا۔؟؟

حقیقت یہ ہے کہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کی اس دیدہ دلیری میں ہماری بے حسی اور ”سانوں کیہ“والی ہماری” ہلہ شیری“کا بھی عمل دخل ہے۔وگرنہ کسی بدبخت ،ناہنجار اورملک دشمن قبضہ گروپ کو ایسی دیدہ دلیری کی جرات نہ ہوتی۔

اتنے سنجیدہ اور رنجیدہ کالم کو تھوڑا” کھٹا میٹھا “کیوں نہ بنالیں کہ ق لیگ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے کہاہے کہ مشرف کے دور اقتدار کا آٹھواں سال” بدترین“ تھا ۔حکومت نے ”خود اعتمادی“ میں غلطی پر غلطی کی۔

اوپر سے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ اور متوقع وزیراعظم جناب چودھری پرویزالٰہی نے دوسری گرہ لگائی کہ آٹا،بجلی ،گیس اور مہنگائی کا ذمہ دار سابق وزیراعظم شوکت عزیز ہے ان کے اقدامات ” احمقانہ“ تھے۔

جبکہ جناب پرویز مشرف فرماتے ہیں کہ شوکت عزیز کی پالیسیاں” درست “تھیں۔اب کس کی بات مانی جائے ”آئینی سلطان“ملک سے باہر ہیں تو چودھری برادران ایسی جسارت پہ اور مشاہد حسین سید ایسی” شرارت“ پہ اتر آئے ہیں۔اللہ خیر کرے 9روزہ دور ے کے بعد اگر ”آئینی سلطان“نے ان حضرات کا ازسر نو امتحان لینے کا اعلان کردیا تو پھر کیا ہوگا۔؟؟کیوں قارئین آپکا کیا اندازہ ہے۔؟؟

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035