|
|
|
19
May 2008 /
13 Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
رانا نواز شاہد
mnawaz@journalist.com
Mobile:0300-9204570
سامراجی معاشی نظام۔۔۔۔۔ حکمرانوں کے رحم وکرم پر بے بس عوام
ماضی میں مشرف حکومت نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی معاشی پالیسیوں کو پاکستان میں
سختی سے نافذ کیا جسکی وجہ سے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔ غربت و
مہنگائی، بیروزگاری اور روزمرہ استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں پے در پے اضافے اور
بنیادی ضرورتوں کی عدم دستیابی نے عوام کی حالت ابتر کر دی،جبکہ اس دوران ملک کے
ایک مخصوص طبقے عوام کے ٹیکسوں سے بھرنے والے قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا
اور مفاد پرستوں نے اپنی جی حضوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دبا کے جیبیں بھریں۔امیر ،
امیر سے امیر تر اور غریب ،غریب ترین ہوتا چلا گیا ،ملک میں خودکشیوں کے ساتھ خودکش
حملوں میں بھی اضافہ ہو ا، استحصالی طبقہ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم کے باعث ملک
میں بڑھنے والے جرائم سے غیر محفوظ ہو گیا۔کئی لوگوں کے کاروبار ختم ہو گئے،چوری و
ڈکیتی اور لوٹ مار کی وارداتوںمیں بعض کے گھروں کا صفایا کر کے انہیں انکی جمع
پونجی سے بھی محروم کر دیا۔جبکہ اس دور حکومت کے اقدامات اور سامراجی پالیسیوں کے
تحت مغرب کی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پاکستان کے وسائل پر اپنی گرفت مضبوط کر کے عوام
کے پیسے کو مختلف طریقوں سے لوٹا۔آج ہمارے عوام اپنی غفلت و لا پر واہی کی وجہ سے
ان سامراجیوں کے جال میں اس قدر پھنس چکے ہیں اب اگر ان سے جان چھڑوانا چاہیں بھی
تو نہیں چھڑوا سکتے۔مغرب نے اپنی اشیاءو مصنوعات کا انہیں اتنا عادی بنا دیا ہے کہ
اب یہ ان کے بغیر ایک لمحہ بھی زندگی گزار نے کا تصور نہیں کرتے۔انگلش فوڈ،انگلش
سوٹ بوٹ، انگلش گاڑی، انگلش موبائل حتی کہ گھر ہر چیز اور ما حول کو بھی انگلش
بنانے کی فکر رہتے ہیں چاہیں اس کیلئے کسی کا حق مارنا پڑے، رشوت لینی پڑے ےا چوری
و ڈکیتی کرنی پڑ جائے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان ساری چیزوں پر دسترس رکھنے
والے فخروغرور جبکہ ان سے محروم لوگ احساس کمتری محسوس کرتے ہیں۔
مغرب نے دنیا کے وسائل پر قابو پانے کیلیے جنگ وعدل کی اپنی پالیسیوں کے علاوہ ملٹی
نیشنل کمپنیوں کے کاروباری طریقہ کار کے ذریعے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا
ہے۔گاڑیاںسستی اور پٹرول ڈیزل مہنگا کیا جا رہا ہے،ایئرکنڈیشنرز، ریفریجریٹرز اور
الیکٹرونکس و الیکٹریکل کا سامان سستا جبکہ ان کو چلانے کیلیے استعمال ہونے والی
بجلی مہنگی ہے،اسی طرح گیس کے نرخ بھی بڑھ رہے ہیں، دوسری جانب کھانے پینے اور
روزمرہ عام استعما ل کی اشیاءکی قیمتیں نہ صرف آسمان سے باتیں کر رہی ہیں بلکہ کچھ
کا تو ملک میں کال پڑا ہوا ہے، گندم کی نئی فصل آجانے سے بھی لوگوں کو آٹا نہیں مل
رہا۔ اس کے برعکس عیش و تعیش کی چیزیں نہ صرف عام بلکہ ہر آدمی کی پہنچ میں بھی کر
دی ہیں۔جبکہ ہمارے عوام بھی ان اشیاءکے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ چاہے گھر میں کچھ
کھانے کیلیے ہو ےا نہ ہو،اسٹار پلس دیکھنے کیلئے ٹیلیوژن اور کیبل کے ساتھ بات چیت
کیلئے ہاتھ میں موبائل فون ضرور ہونا چاہئے۔
بچے کی اسکول فیس وقت پر بھیجنا مشکل ہے،ٹی وی کیبل والے اور موبائل فون میں بیلنس
ڈلوانے کا حساب کتاب میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جاتی،سب وقت پر نمٹا دیا جاتا ہے۔ان
خیرخواہ موبائل کمپنیوں نے ہمارے لوگوں کے مسائل و وسائل دیکھتے ہوئے ایزی لوڈ کے
ذریعے فوری بیلنس کی سہولت بھی فراہم کر دی ہے۔اب سو ےا پانچ سو کا کارڈ خریدنے کی
ضرورت نہیں رہی ،دس روپے کا بیلنس حاصل کیا جاسکتا ہے۔بلکہ جب کبھی بات کرتے کرتے
بیلنس ختم ہو جائے تو ہیلپ لائن ملائیں تو فوری پانچ روپے کا بیلنس آپکو ایک سیکنڈ
میں مل جائے گا۔جبکہ چلتے چلتے کسی بھی دکان ےا شہر کے فٹ پاتھوں پر لگائے گئے
اسٹالوں پر سے بغیر ضروری دستاویزات کے موبائل فون کی سم بھی باآسانی حاصل کرلیں
اور اس کا استعمال کر کے پھینک دیں ۔کسی بھی طرح کے ضروری لوازمات رہے ہی
نہیں۔ہمارے صدر صاحب موبائل فون کو خوشحالی کی علامت سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ
ملک میں ہر دوسرے آدمی کے پاس موبائل مو جود ہے،کون کہتا ہے کہ پاکستان میں غربت
ہے؛صدر صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ ہر روز ملک سے کتنے موبائل فون چھینے جاتے ہیں،
اوریہ کہ خوشحالی کی اس علامت کو بچانے اور برقرار رکھنے کی کوشش میں مزاحمت پر
کتنے لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں؟؟؟
نئی حکومت نے تیل ،شکر ‘ بجلی اور آٹے کے نرخوں میں اضافہ کے بعد گزشتہ روز ریلوے
کرایوں میں بھی دس فیصد کا اضافہ کر دیا ہے جبکہ گزشتہ دنوں سی این جی کے نرخوں میں
پانچ روپے اور ایل پی جی کی قیمت میں ایک روپیہ فی کلو کا اضافہ کرنے کا کارنامہ
انجام دیا تھا ۔ ملک میں جاری توانائی اور غذائی قلت کے بحران پر قابو پانے کیلئے
اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں تیل کی فی بیرل قیمت 120 ڈالر تک جانے کے باعث حکومت
گزشتہ دو ماہ کے دوران تیل کی قیمتوں میں چار مرتبہ آٹے کی قیمت میں تین مرتبہ اور
بجلی کی قیمت میں ایک مرتبہ اضافہ کر چکی ہے ،جبکہ سی این جی کی قیمت میں بھی تین
ماہ پہلے اضافہ کیا گیا تھا۔
گندم کی عدم دستیابی اوراوپن مارکیٹ میں 100 کلو بوری کی قیمت میں 105 روپے کے
اضافے کے باعث آٹے کی 80کلو گرام بوری کی قیمت میں 100روپے کا اضافہ ہو گیاہے جبکہ
کراچی کی72 میں سے 32 فلور ملیں بند اور بیشتر فلور ملوں میں گندم نہ ہونے پر
پیداواری عمل متاثر ہوگیا ہے۔ کراچی کو اندورن سندھ سے گندم کی ترسیل بندہونے کے
باعث اوپن مارکیٹ میں100 کلو بوری کی قیمت 2020 روپے تک پہنچ گئی ہے۔اس صورتحال سے
فائدہ اٹھاتے ہوئے فلور ملز مالکان نے بھی ڈھائی نمبر چکی آٹے کی 80 کلو بوری کی
قیمت میں 100 روپے اضافے سے 1725 روپے سے بڑھا کر 1825 روپے کردی ہے۔جبکہ میدے کی
بوری کی قیمت 1950 اور فائن آٹے کی بوری کی قیمت 1925 روپے ہوگئی ہے۔ مارکیٹ میں
ڈھائی نمبر چکی کے 10 کلو تھیلے کی قیمت 220 روپے سے بڑھ کر 235 روپے ہوگئی ہے۔اس
ضمن میں فلور ملز ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے
سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے پر گندم کے 200سے زائد ٹرک روک لیے گئے ہیں۔ذرائع کے
مطابق محکمہ خوراک سندھ نے کراچی کو گندم کی ترسیل کے لیے4 اضلاع سے گندم خرید کر
لانے کی اجازت دی تھی لیکن محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے اس فیصلے پر بھی عمل نہیں
کیا اورکراچی کے لیے گندم لے کر آنےوالے 200سے زائد ٹرک محکمہ خوراک کے اہلکاروں نے
سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے پر روک لیے ہیں، جن ٹرکوں کو محکمہ خوراک نے روکا ہے
وہ حکومتی پالیسی کے تحت گندم لارہے تھے لیکن محکمہ خوراک اس گندم کو ضبط کرکے
خریدی ہوئی گندم ظاہر کرنا چاہتاہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ گندم و آٹے کی
صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے محکمہ خوراک کے اعلیٰ افسران سے رابطہ قائم کیا گیا
لیکن کسی بھی ذمہ دار افسر نے فلور ملز مالکان کے وفد سے ملاقات کے لیے وقت نہیں
دیا۔واضح رہے کہ شہر میں آٹا 26 روپے فی کلو گرام فروخت کیا جارہا ہے جبکہ فلور ملز
کو سرکاری گندم کی ترسیل بند ہونے کے بعد سے اب تک شہری حکومت نے آٹے کے نئے نرخ
مقرر نہیں کئے ۔وزیراعظم سید یو سف رضا گیلانی نے حلف اٹھانے کے بعد گندم کی امدادی
قیمت میں اضافہ اور اس کے اطلاق کی تاریخ کا اعلان کر کے ذ خیرہ اندوزوں کے مزید
حوصلے بڑھا دیئے۔وزیراعظم کے اعلان کے ساتھ ہی جو لوگ تھوڑی بہت فروخت کر رہے تھے
انہوں نے بھی چھپا دی کہ نئے نرخوں پر فروخت کریں گے۔جس سے ملک میں گندم اور آٹے کا
مزید بحران پیدا ہو گیا۔اب جبکہ گندم کی نئی فصل بھی آچکی ہے تو اس کے باوجود بھی
قیمتوں میں اضافہ اور یہ بحران کیوں برقرار ہے،لوگوں کو سستا آٹا کیو ں نہیں مل رہا؟
اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ بڑے زمینداروں اور ذخیرہ اندوزوں نے نرخوں میں
مزید اضافہ ہونے کی آس میں نئی گندم چھپا دی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ملک کے دیہی
علاقوں میں نئی گندم ساڑھے آ ٹھ سوروپے فی من فروخت ہو رہی ہے جبکہ سرکاری قیمت
625روپے ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ ایسے خودکفیل علاقائی لوگ خرید رہے ہیں جو بحران
سے خوفزدہ ہیں اس لئے وہ اتنے مہنگے داموں گندم خرید کر گھروں میں ذخیرہ کررہے ہیں
تاکہ آئندہ بحرانوں سے نمتا جا سکے ۔ لیکن پھر بھی یہ گندم ایسے کاشتکار فروخت
کررہے ہیں جو انتہائی مجبور ہیں ۔ اور انہیں رقم کی ضرورت ہے ورنہ دیگر کاشتکار
گندم کی فروخت سے گریز کررہے ہیں اور اسے مزید مہنگے داموں فروخت کرنے کے امید پر
ذخیرہ رکھنا چاہتے ہیں ۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ حکومت کا غلط اقدام تھا ۔کیونکہ
اس سے کسان ےا چھوٹے موٹے زمیندار کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا،صرف بڑے زمیندار اور
سرمایہ داروں کے مزے آئے ہیں۔کسان اور چھوٹا زمیندار تو صرف اپنے استعمال اور اپنے
عزیز رشتہ داروں کی ضرورت کے مطابق اجناس اگاتا ہے،بہت زیادہ ہوگا تو اس میں سے
اپنے پڑوسیوں اور گلی محلے کے دوسرے افراد کو کچھ گندم دی دے گا۔منڈیوں تک تو اس نے
جانا ہوتا ہے اور نہ ہی اتنے اس کے پاس وسائل ہوتے ہیں کہ کوئی اجناس ذخیرہ کر سکے۔
حکومت واقعی غریب کسان ےا چھوٹے زمیندار کوکوئی ریلیف دینا چاہتی ہے تو وہ زرعی
ادویات، پانی ،کھاداور دیگر معاملات میں دی جانی چاہیئے۔جبکہ اجناس اور دیگر
اشیاءکی برآمدات کی اجازت تب ہونی چاہیے جب یہ ملکی ضروریات سے زائد ہوں۔اشیائے
ضرورت کی قیمتیں عوامی استعداد کے مطابق ہوں۔اور یہی بین الاقوامی اصول بھی ہے۔لیکن
ہمارے ہاں اس کے بالکل برعکس ہے چاول اور سیمنٹ کی برآمدات میں اضافہ سے ایک دم ملک
میں ان کی قیمتیں بڑھ گئیں کئی ایسی پاکستانی اشیاءو مصنوعات میں جو ہمارے عوام کو
دیکھنے نہیں دی جاتی ہے بیرون ممالک کو برآمد ہو جاتی ہےں کہا جاتاہے کہ اس سے ملک
کو زرمبادلہ ملتا ہے ۔ کیسا زرمبادلہ ؟ کہ سابقہ حکومت نے ملک کی ہر چیز برآمد کردی
اور زرمبادلہ کے بلند و بانگ دعوے ہوتے رہے جبکہ ٓا نے والی نئی حکومت نے اس کی نفی
کردی ۔ گندم کی برآمد میں اس قدر ٓاگے نکل گئے کہ ملک میں اس کا شدید بحران پیدا
کرلیا اور عقل سے پیدل حکمرانوں نے اپنی برامد کی گئی گندم دوگنا زائدنرخوں پر واپس
درآمد کرلی ۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ ملک کی ضروریات پوری
ہونے کے بعد چاول برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ اس فیصلے
پر عملدرآمد ہوتا ہے یا محض عوام کی دل کی تسلی کے لئے کہا گیاہے ۔“ |
 |
|
|