رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

03 March 2008 / 24 Safar 1429

تحریر: محمد ناظم راﺅ

بیڑا کس کا غرق ہو گا۔۔۔۔۔؟

فروری 2008ءانتخابات ، مبصرین ، تجزیہ نگاروں اور دانشواروں کے نزدیک ملکی تاریخ کے اہم ترین الیکشن تھے ،جس میں عوام نے جمہوری قوتوں کو ووٹ دیکر اپنی ذمہ داری نبھا دی پھر ایک بھاری ڈیوٹی سیاسی جماعتوں پر عائد ہوئی ، مختلف سیاسی پارٹیزنے مختلف سطح پر اتحاد تشکیل دیے اور صدر جنرل پرویز مشرف کو رخصتی کا عندیہ وقفے وقفے سے دیا جا رہا ہے اور مختلف اطراف سے بیان اور تردید یں جاری و ساری ہیں۔
 
سپر پاور امریکہ بھی اپنی ٹانگ اڑانے سے باز نہیں آتا۔(حیرانگی کی بات ہے کہ امریکہ کا پاکستانی سیاست میں عمل دخل کا عنصر ہمارے حکمرانوں میں بھی واضح نظر آ رہا ہے)پیپلزپارٹی کہتی ہے کہ انتقال اقتدار میں مسائل کھڑے کیے جا رہے ہیں ، ن لیگ ججز کو بحال کرنے پر تلی ہے ، اے این پی صوبہ کا نام تبدیل کر رہی ہے الغرض ہر کوئی اپنا سیاسی موقف بڑے اہتمام اور بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے ، ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز ٹھاٹھ سے منعقد کیے جاتے جہاں بحث و مباحثہ جاری رہتا ہے ، آئین کی بالا دستی ، قانون کی حکمرانی ، آمریت کا خاتمہ ، لوٹا کریسی کا اختتام اور ہمارے ہاںجمہوریت کی جو صبح وشام تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے اس میںہم بد قسمت عوام کے اصلی مسائل کی بات کہیں بات تک نہیں ہوتی ۔

قائد اعظم کے وفات کے بعد نام نہاد مذہبی جماعتوں نے( جنہوں نے قائد اعظم کو کافر اعظم تک کہہ دیا )کی چہار دانگ ہا ہا کار مچائی ، آرمی کے سخت بوٹوں کی پارلیمنٹ میں آواز گونجتی رہی ، آمریت کی معاشرے پرکیا کیا گل فشانی؟ ، آئین کی دھجیاں بکھیری گئیں ، عوام کے خزانوں کو ہاتھوں پیروں سے لوٹا گیا ، بیور و کریسی کے منہ زور ہتھنی جیسے قدموں نے عوامی خدمت کے مقدس چہرے کومسخ کر دیااور دہشت گردی کی سنگین وارداتوں میں بے گناہوں کی اموات ان سب نقصانات میں نقصان ہوا کسی خاص طبقے کو نہ ہے بلکہ صرف اور صرف عوام کا ۔

مہنگائی عروج پر ہے اور بحران راستہ روکے کھڑے ہیں ،تاریخ دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پاکستانی عوام نے اسلام نافذ کرنے والوں کو موقع دیا ، شوشلزم کا نعرہ لگانے والوں کو چانس دیا ،دہشت گردوں کو صف ہستی سے مٹانے والوں کو ووٹ اور جمہوریت کا شور غوغا مچانے والوں کو ووٹ دیا مگر ہر ایک نے شرمندہ و مایوس کیا جس فرد کو اسکے منشور کے مقاصد کی تکمیل کرنے کےلئے عوامی مینڈیٹ ملا انہوں نے ہی اپنے مقاصد کو تہس نہس کر دیا ۔

دہشت گردی کی روک تھام والوں نے دہشت گردوں کا تحفہ دیا اور عوامی خوشحالی اور مہنگائی و بحرا ن پر کنٹرول کرنے والوں نے مہنگائی وبحران پیدا کیے ،عوام نمائندے منتخب کرتی رہی کہ کچھ نہ کچھ بھلا ہو گا مگر سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہ آیا اب ہماری نئی منتخب پارلیمنٹ کیساتھ بھی عوام کی امیدیں وابستہ ہیں ۔

نئی پارلیمنٹ کو بہت سے قانونی ،داخلی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے اسی لئے مشکلات کے ڈر سے وزیر اعظم کا انتخاب التواءمیں ہے ، حالانکہ ماضی میں صرف وزارت عظمی کی خاطر جنگ لڑی جاتی تھی مگر اب ہر کوئی یہ ذمہ داری لینے سے کترا رہا ہے کیونکہ سب کو پتہ ہے مسائل ہنوز موجودہیں ہی ،اگر ذمہ داری سے عہد برآنہ ہو سکے تو ساری زندگی عوام کی طرف سے لعنت و ملامت ملے گی ۔

اب جو نئی پارلیمنٹ بجائے کہ عوامی دلجوئی کرے وہ دوسرے فالتو جھگڑوں میں پڑ گئی ہے ،   نئی اسمبلی کو چاہیے کہ حکومتی کنٹرول سنبھالنے سے قبل بجائے کہ صدر کامواخذہ کرے
اور58ٹوبی کے جھگڑے میں پڑے اسے چاہےے کہ مہنگائی اور بجلی و پانی سے سنگین مسائل کے حل کی بات کرے ۔

پانی کا مسئلہ پاکستان کے لئے اتنا سنگین ہو چکا ہے کہ گزشتہ دنوں واٹر کونسل کا لمبا چوڑا بیان نظر سے گزرا جسمیں کہا گیا کہ بھارت 3 دریاﺅں پر پہلے بند باندھ چکا ہے اور باقی 3دریاﺅں پر ڈیم تعمیر کر رہا ہے ،دوسری تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ صرف چند دنوں کا ہے ،اور ہمارے ہاںڈیموںکا مسئلہ ہنوز التوا میں ہے ،واٹر کونسل کے سربراہ نے بھارت کو عندیہ دیا کہ وہ پانی بطور ہتھیار استعمال نہ کرے اور پاکستان کے حق پر ڈاکہ نہ مارے مگر بدقسمت واٹر کونسل کے ہنگامہ خیز بیان پر کسی سیاسی لیڈر کا ردعمل تک دیکھنے میں نہیں آیا اگر ہمارے حکمرانوں نے اب بھی سنجیدگی اختیار نہ کی تو بہت ملک کا بہت نقصان ہوگا جسکا ازالہ مشکل ہو جائے گا، چلوپانی کے بحران سے حکمران تو منرل واٹر خرید لیں گے مگر ہم جیسے تو پیاسے مر جائیں گے ،جنکا خون ہمارے حکمرانوں کے سر ہو گا اور مخلوق خدا کی آہ ان کو لے ڈوبے گی۔

ہمارے حکمران خدارا مسائل سے چشم پوشی اختیار نہ کریںجیسے ماضی میں ہوا ہم کو امیدیں ہیں اس نئی پارلیمنٹ پر نئی پارلیمنٹ عوام کو پھر سے نا امید نہ کریں خدارا پیاسی واٹر کونسل کے بیان پر بھی توجہ ہو،اگر نئے نمائندوں نے بھی امیدوں پر پانی پھیر دیا تو ملک کا کیا بنے گا حکمران تو بیرون ملک چلے جائیں گے اور بیڑا غرق ہو گا تو صرف عوام کا ۔۔۔
!

 

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035