|
|
|
19
May 2008 /
13 Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
ممتاز حیدر
mhaider84@gmail.com
03215473472
پاکستان سے محبت مگر اسلام کی خاطر
یوں
تو اپنے وطن سے ہر کسی کو محبت ہوتی ہیں مگر نسبتیں الگ الگ ہوتی ہیں کوئی کاروبار
کی وجہ سے کوئی پیسے کی وجہ سے جبکہ کوئی عیش و عشرت کی وجہ سے اپنے ملک کو غیر ملک
پر فوقیت دیتا ہے۔ لیکن الحمد للہ پاکستان واحد ایسا ملک ہے جس کے باشندے اسلام کی
خاطر اس سے محبت کرتے ہیں اور کیوں نہ کریں جس کی بنیاد ہی اسلامی نظریہ پر رکھی
گئی ہو اور جس کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنا لہو پیش کیا ہو۔ مسلمان ایک قوم ہے،
ان کا اللہ ایک ، ان کا قرآن ایک ، ان کا قبلہ ایک ، ان کا آخری نبی (صلی اللہ علیہ
وسلم) ایک۔ تقسیم ہند سے مسلمان جغرفیائی طور پر توایک دوسرے سے جدا ہوئے لیکن
اسلامی بھائی چارہ اور محبت ابھی تک ان کے دلوں میں باقی ہے بلکہ پہلے سے بڑھ کر ہے۔
اور نظریاتی طور پر بھی وہ ایک ہیں۔
یہ وہ واحد سرزمین ہے جہاں بیک وقت مسلمانوں کی ہجرت کی تعداد سب سے زیادو ہے۔
مسلمانوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنا ایمان محفوظ کرنے کیلئے یہاں پر ہجرت کی اور
یوں انہوں نے ہجرت مدینہ کی یاد تازہ کی۔ جس طرح ہجرت مدینہ کے وقت مسلمانوں پر
کفار کی طرف سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے اور ان کے خلاف ہر طرح کے حربوں
کوآزمایا گیا اسی طرح پاکستان آنے والوں پر بھی ہندواور سکھ قوم نے ہر طرح سے زمین
تنگ کی۔ مسلمان بچوں کو بے دردی سے شہید اور یتیم کیا گیا اور بوڑھوں کو بھی نہیں
بخشا گیا، مسلمان عورتوں کی عصمتوں سے سکھ اور ہندوﺅں نے مل کر کھیلنا شروع کیا۔
صرف اور صرف اس لئے کہ وہ مسلمان تھے۔ آج ان دونوں گروہوں میں سے اکثریت موجود نہیں
لیکن ہم اللہ سے قوی امید رکھتے ہیں کہ وہ ان ظالم کافروں کو ان کے اعمال کا بدلہ
ضرور دے گا۔
جس ملک کیلئے اس قدر قربانیاں کی گئیں افسوس صد افسوس آج اس کے حکمران روشن خیالی
اور بے دینی کی وجہ سے ان قربانیوں کو بھول گئے اور کرسی بچانے کی خاطر کافر اور
طاغوتی قوتوں کے ساتھ مل کر اپنے مسلمانوں کا خون بہا کر کامیابی و فتح کے نعرے
لگانے لگ گئے۔ اسلام کی بجائے مغربی روشن خیالی کو پروان چڑھانے میں اپنا دین و
ایمان کھو بیٹھے۔ حالانکہ اسلام ہی وہ دین ہے جو انسان کو ظلمات سے نکال کر نور کی
طرف لے جاتا ہے۔ دوسری طرف مسلمانوں کو شخصیت پرستی میں ایک خاص منصوبے کے تحت
مبتلا کرکے ان کو اہل توحید کا دشمن بنا دیا گیا۔جن مسلمانوں کے آبا ﺅ اجداد اس ڈر
سے اپنا آبائی وطن چھوڑ کر پاکستان آئے کہ کہیں ان کی آنے والی نسل بت پرستی میں
مبتلا نہ ہو ، آج ان کی اولاد مزاروں میں جا کر قبر پرستی کا شکار ہوئے۔
ان کے مدرسوں میں قرآن وحدیث کی تعلیم کے بجائے دوسرے علوم کو مقدم رکھا گیا کیوں
کی یہی وہ دو سرچشمے ہیں جن پر عمل کرکے مسلمان متحد ہو کر ایک پلیٹ فارم پر کفار
کے ساتھ جہاد کر سکتے ہیں۔ وہ پاکستان آکر یہ تو جان گئے کہ پاکستان کا مطلب لاالہ
الااللہ ہے لیکن لاالہ الااللہ کا مطلب آج تک نہیں جان سکیں!
اللہ سے دعا ہے کو وہ اس پاک سرزمین پر لوگوں کو توحید کی نعمت سے سرفراز کرے۔۔۔
آمین یا رب العالمین |
 |
|
|