رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

19 March 2008 / 11 Rabi-ul-Awal 1429

رپورٹ: سعد کاظمی

متحدہ اور مہاجر قومی موومنٹ میں خونریز تصاد م کا خدشہ

کراچی میں متحدہ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان خونریز تصادم کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ نے سندھ میں حکومت بننے کے بعددوبارہ اپنے علاقوں میں واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سنہ1992ءکے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے زیر اثر 6علاقے تھے جن میں لانڈھی، کورنگی، ملیر، شاہ فیصل کالونی، لائنز ایریا، لیاقت آباد نمبر 4کے علاقے شامل تھے لیکن متحدہ قومی موومنٹ نے اقتدار میں آنے کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے خلاف پولیس کے ذریعے بھرپور آپریشن کرایا۔ مہاجر قومی موومنٹ کی مرکزی قیادت کو گرفتار کر کے جیل بھجوادیا گیا اور لانڈھی میں مہاجر قومی موومنٹ کے مرکز بیت الحمزہ کو گرا دیا گیا۔ اس صورتحال کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے درجنوں کارکنان کو قتل کر دیا گیا جس کی بعد مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان نے کراچی چھوڑ دیا اور پاکستان ے دیگر صوبوں میں اپنی رہائش اختیار کی۔

تاہم اس دوران مہاجر قومی موومنٹ نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس دوران ان میں اختلافات پیدا ہوئے اور مہاجر قومی موومنٹ 2حصوں میں بٹ گئی۔

مہاجر قومی موومنٹ کا ایک گروپ آفاق احمد کو اپناچیئر مین تسلیم کرتا ہے جبکہ دوسرا گروپ عامر خان کو اپنا چیئر مین مانتا ہے۔

مہاجر قومی موومنٹ کے دو گروپ بننے کے بعد بھی ان کے اختلافات متحدہ قومی موومنٹ سے رہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کو ہر وقت یہ خطرہ لاحق رہتا تھا کہ کہیں مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان واپس اپنے علاقوں میں نہ آجائیں۔ 18فروری کے الیکشن میں متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی سے صوبائی اسمبلی کی 51نشستیں حاصل کیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی میں 90نشستیں حاصل کیں اور وہ اکیلی اس پوزیشن میں آ گئی کہ متحدہ قومی موومنٹ کے بغیرسندھ حکومت بنا لے۔ اسی صورتحال میں متحدہ کے قائد الطاف حسین کو یہ خطرہ نظر آیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما اور کارکنان اپنے علاقوں میں واپسی کی کوششیں کریں گے جس پر متحدہ قومی موومنٹ نے انتخابات کے فوراً بعد ہی اپنی حکمت عملی تیار کی اور لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، ملیر اور لائنز ایریا سیکٹر کے ذمہ داروں کا اجلاس طلب کر کے انہیں ہدایت دی گئی کہ وہ چوکنا رہیں کیونکہ مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان علاقوں میں واپس آسکتے ہیں۔

اہم ذریعے کا کہنا ہے کہمذکورہ ہدایت میں کارکنوں کہ کہا گیا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کے گھروں میں ہونے والی سرگرمیوں پر نظر رکھیں جبکہ رات کو پہرہ داری نظام کو مزید مضبوط کریں۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ اس ہدایت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان نے اپنے علاقوں میں پہرہ داری نظام کو سخت کیا، متحدہ کے کارکنان لانڈھی، کورنگی، ملیر اور شاہ فیصل کالونی میں رات کو ہتھیار لے کر ڈیوٹیاں کرتے تھے۔ تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سب اسٹریٹ کرائم کی روک تھام کے لئے کیا جارہا ہے لیکن اس کے پس پردہ حقائق کچھ اور ہی تھے۔

ابھی متحدہ قومی موومنٹ کا پہرے داری نظام چل ہی رہا تھاکہ مہاجر قومی موومنٹ عامر خان گروپ نے شاہراہ فیصل، کورنگی اور سعود آباد کے علاقوں میں” جئے مہاجر“ اور ”عامر خان کو رہا کرو“ کی چاکنگ کرادی۔ یہ چاکنگ کب ہوئی ؟ اس سے متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان لاعلم تھے لیکن علاقے کے لوگوں نے دیکھا کہ ان کے علاقوں میں دوبارہ مہاجر قومی موومنٹ کی چاکنگ ہوئی ہے۔ جب اس بات کی اطلاع متحدہ کی لندن قیادت کو ہوئی تو اس نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔

ذریعے کا کہناہے کہ متحدہ کی تنظیمی کمیٹی نے اس سلسلے میں لانڈھی، کورنگی اور سعودآباد کے ذمہ داروں کو طلب کیا اور ان سے وضاحت طلب کی لیکن ان کا کہنا تھاکہ انہیں علم نہیں کہ یہ چاکنگ کب ہوئی۔

اس چاکنگ کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کی لندن قیادت کو یہ احساس ہونے لگا کہ مہاجر قومی موومنٹ دوبارہ اپنے علاقوں میں واپسی کے لئے کوششیں کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر پہلے مرحلے میں متحدہ نے لانڈھی اور کورنگی سیکٹر میں دوسرے سیکٹروں سے10لڑکے بھیجے۔ متحدہ کی قیادت کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مہاجر قومی موومنٹ کا کونسا گروپ دوبارہ علاقوں میں واپسی کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں متحدہ کی لندن قیادت نے متحدہ کے انٹیلی جنس ونگ کو ہدایت کی کہ وہ معلومات حاصل کرے کہ مہاجر قومی موومنٹ کا کونسا گروپ علاقوں میں دوبارہ واپس آنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

مہاجر قومی موومنٹ کے گروپوں کے بار ے میں متحدہ انٹیلی جنس نے جو رپورٹ لندن قیادت کو دی اس میں کہا گیا ہے مہاجر قومی موومنٹ کا عامر گروپ فعال ہو رہا ہے اور ان کے پاس 50سے60لڑکے ہیں، انہوں نے بڑی تعداد میں ہتھیار بھی جمع کئے ہیں جبکہ ان کے پیپلز پارٹی کے بعض رہنماوں سے بھی رابطے ہیں۔

ذریعے کا کہناہے کہ متحدہ انٹیلی جنس ونگ نے لندن قیادت کو آگاہ کیا کہ کراچی کے بعض تھانیدار مہاجر قومی موومنٹ عامر خان گروپ کے رابطوں میں ہیں ۔یہ وہ تھانیدار ہیں جو متحدہ کی سفارش پر تعینات ہوئے لیکن وہ اب مہاجر قومی موومنٹ کے رہنماوں اور کارکنوں کے بھی رابطے میں آگئے ہیں۔

اس صورتحال پر متحدہ انٹیلی جنس نے جو رپورٹ دی تو لند ن قیادت نے ایک نئی حکمت عملی کے تحت متحدہ قومی موومنٹ کے شہر بھر سے اپنے کارکنان لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل کالونی، ملیر اور لائنز ایریا بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اس حکمت عملی کے تحت لانڈھی سیکٹر میں بفرزون اور نیو کراچی سیکٹر سے 325کارکنوں کو بھیجا گیا جن کو لانڈھی 89سے لانڈھی6نمبر تک کے داخلی راستوں پر بٹھا یا گیا ہے۔ یہ افراد رات کے اوقات میں موجود رہتے ہیں اور دن میںیونٹ کارکنوں کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ موٹر سائیکلوں پر گشت کریں اور مشکوک افراد کو روک کر تلاشی لیں جبکہ رات کو بارہ بجے کے بعد مختلف سیکٹروں سے آئے ہوئے کارکنان لوگوں سے پوچھ گچھ کرتے ہیں اور ان کے شناختی کارڈ چیک کررہے ہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ ملیر سیکٹر میں بلدیہ ٹاون اور پاک کالونی سیکٹر سے 30لڑکے بھیجے گئے ہیں جنہیں کھوکھراپار، سعود آباد ، ملیر ٹنکی اور لیاقت مارکیٹ کے اطراف ڈیوٹیاں دی گئی ہیں۔ ذریعے کا کہناہے کہ متحدہ کو شبہات ہیں کہ سعود آباد میں مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔

اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ سعود آباد تھانے میں بعض افسران مہاجر قومی موومنٹ عامر خان گروپ کے رہنماوں کے رابطے میں ہیں۔ اہم ذریعے نے بتایا کہ کورنگی میں لیاقت آباد اور ناظم آباد سیکٹر سے 40لڑکوں کو بھیجا گیا ہے کیونکہ لانڈھی اور کورنگی کے راستوں سے مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان انٹری ڈال سکتے ہیں۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ ناصر کالونی میں لیاقت آباد سیکٹر کے 15لڑکے موجود ہیں جنہوں نے یونٹ 77کے کارکنوں کے ساتھ علاقے کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے جبکہ کے ایریا اور جے ایریا میں کورنگی سیکٹر کے ذمہ داران خود علاقے کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہیں۔ اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ شاہ فیصل کالونی سیکٹر میں فیڈرل بی ایریا سیکٹر سے 25لڑکے بھیجے گئے ہیں جو شاہ فیصل کالونی نمبر4-5اور ایکمیں ڈیوٹیاں دے رہے ہیں ۔ متحدہ کو بعض ایسی اطلاعات ہیں کہ اگر مہاجر قومی موومنٹ کے کارکنان شا ہ فیصل کالونی میں انٹری ڈالیں گے تو سنی تحریک کے کارکنان ان کا ساتھی دے سکتے ہیں اس خطرے کے پیش نظر متحدہ نے شاہ فیصل کالونی میں سنی تحریک پر بھی نظر رکھی ہوئی ہے۔

ذریعے کا کہناہے کہ لائنز ایریا سیکٹر میں پی آئی بی کالونی سیکٹرکے 20کارکنان کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ جٹ لائن، ٹیو نیشیا لائن اور ابن سینا لائن میں متحدہ کے کارکنان نے مورچے لگائے ہوئے ہیں۔ اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ متحدہ انٹیلی جنس کی رپورٹ کے بعد متحدہ قومی موومنٹ مذکورہ علاقوں پر توجہ دے رہی تھی کہ اچانک مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد گروپ نے گلستان جوہر میں راڈو اپارٹمنٹ کے ایک فلیٹ میں پریس کانفرنس کر کے اپنی سیاسی سرگرمیوں کے آغاز کا اعلان کر دیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کو اس وقت دھچکا لگا جب مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما اختر حسین نے پریس کانفرنس کی۔ اس پریس کانفرنس پر متحدہ کی لندن قیادت کراچی کی تنظیمی کمیٹی پر برہم ہوئی اور ان سے جواب طلب کیا گیا کہ انہوں نے پیشگی طور پر لندن قیادت کو آگاہ کیو ں آگاہ نہیں کیا۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر سیکٹر کے ذمہ داروں کوطلب کر کے ان سے باز پرس کی گئی۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ متحدہ کو ایسی اطلاعات ہیں کہ مہاجر قومی موومنٹ نے گلستان جوہر میں اپنے سیکٹر کو فعال کیا ہے اور مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما گلستان جوہر کے علاقوں میں روپوش ہیں۔

ان اطلاعات کے بعد متحدہ قومی موومنٹ گلستان جوہر سیکٹر نے 12گاڑیاں رینٹ پر لے کر پہرے داری نظام قائم کیا۔ ذریعے کا کہناہے کہ اورنگی ٹاون سیکٹر کو گلستان جوہر سیکٹر میں ذمہ داری سنبھالنے کے لئے کہا گیا اور اورنگی ٹاون سیکٹر سے 25کارکنوں کو گلستان جوہر بھیجا گیا۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ گلستان جوہر میں متحدہ کے کارکنان پرائیویٹ گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں، 

اہم ذریعے کاکہنا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کے دونوں گروپ اپنے علاقوںمیں واپس جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اس صورتحال میں متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان خونریز تصادم کا خطرہ ہے۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد گروپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے 500سے زائد کارکنان ہیں جو اس وقت کراچی میں موجود ہیں مہاجر قومی موومنٹ کے ذمہ دار کا کہنا ہے کہ ان کے لانڈھی میں 150، کورنگی میں80، ملیر میں60، شاہ فیصل کالونی میں120اور لائنز ایریامیں90کارکنان ہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ مذکورہ کارکنوں کو مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد گروپ کی ایڈہاک کمیٹی کے اراکین اختر حسین، ندیم الاسلام، شمشاد احمد خان اور ریاض قریشی منظم کر رہے ہیں۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد گروپ نے پیپلز پارٹی کے رہنماوں سے بھی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد گروپ نے خواتین ونگ کو فعال کر دیا ہے۔ جس پر متحدہ کی خواتین اور مرد کارکنوں نے مہاجر قومی موومنٹ کے ایک نوجوان رانا حبیب کو اغواکے بعد گولیا ںمار کر ہلاک کیا گیااور 3نوجوانوں کو شدید زخمی کیا۔ مہاجر قومی موومنٹ کے رہنما اختر حسین کا دعویٰ ہے کہ متحدہ کے کارکنان ے مہاجر قومی موومنٹ کے 6کارکنوں کو اغوا بھی کیا ہے۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ عامر خان گروپ کا دعویٰ ہے کہ لانڈھی میں ان کے 165کارکنان ہیں او رانہیںذیشان احمد کی قیادت میں منظم کیا گیا ہے۔ کورنگی سیکٹر میں 75کارکنان ہیں۔ جو عرفان احمد اور شہزاد احمد کی سربراہی میں فعال ہیں، عرفان احمد مہاجر قومی موومنٹ عامر خان گروپ کے کورنگی کے سیکٹر انچارج ہیں۔ ملیر سیکٹر میں 180کارکنان ہیں جن کو آفتاب عرف عفو کی سربراہی میں منظم کیا گیا ہے۔

شاہ فیصل کالونی سیکٹر میں 65کارکنوں کو آفتاب بھائی ، لائنز ایریا میں 50کارکنان کو بالا اور لیاقت آباد میں 36کارکنان کو چنا پہلوان کارکنوں کو منظم کر رہے ہیں۔ اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے لیاقت آباد میں عامر خان کے گھر والی گلی کے باہر مورچہ لگا لیا ہے جہاں متحدہ کا دہشت گرد عبید اپنے ساتھیوں کے ساتھ موجود رہتا ہے۔ اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ مہاجر قومی موومنٹ کی جانب سے علاقوں میں واپس جانے کی صورت میں متحدہ اور مہاجر قومی موومنٹ کے درمیان خونریز تصادم ہو سکتا ہے۔

اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پیرول پر رہا ہونے والے دہشت گردوں نے بیرون ملک جانے کیلئے مختلف ایجنٹوں سے رابط شروع کر دیئے ہیں۔ واضح رہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے دور حکومت میں سب سے زیادہ جرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزمان کو پیرول پر رہا کرایا ہے۔ ذریعے کاکہنا ہے کہ متحدہ نے 16اگست2003کو 24دہشت گردی کے ملزمان کو پیرول پر رہا کرایا، ان ملزمان کو پیرل پر رہا کرانے کے لئے محکمہ داخلہ سے لیٹر نمبرSO(PRS-D9-28/2003جاری ہوا تھا۔ جس میں نور احمد عرف عامر ولد کالا خان، محمد امین کالیا ولد احمد حسین، غلام محی الدین ولد غلام نبی، محمد انیس ولد محمد ایوب، فیصل ندیم ولد محمد جمیل، عبدالصبلو ولد فجر علی، محمد کرم عرف لمبا ولد رحمت علی، وزیر احمد ولد عبدالصمد، ذوالفقار احمد ولد فضل دین، فیاض احمد ولد عبد الغفار، محمد سلیم خان، محمد جمال الدین، عبدالفتح، شاہد علی ولد عبدالمجید، محمد یوسف ولد محمد وسیم شیر محمد ولد غلام حسین، محمد آصف ولد قمرالدین، سعید انور ولد انور شریف، عباس حیدر ولد اصغر عباس، دل محمد ولد عبدلکریم، محمد نعیم ولد محمد رفیق، محمد ارشد ولد محمد شریف، محمد سلیم عرف ڈینٹر ولد محمد جمیل اور محمد اختر شکیل ولد محمدحبیب شامل ہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 17ستمبر2003کو SO(PRS)9-28/2003جاری ہوا جس میں متحدہ کے کارکنان کو رات نو سے 18-09-03رات نو بجے تک چوبیس گھنٹے تک پیرول پر رہا کرنے کاحکم دیا گیا۔ اس میں جن کارکنان کو پیرول پر رہا کرنے کے لئے کہا گیا تھا ان میں محمدجہانگیر ولد قمرالدین، خرم ولد عبدالعزیز، محمد رضوان ولد مطلوب، سید علی قیصر نقوی ولد سید الطاف حسین نقوی، سلطان عرف کپل ولد سلیمان، زبیر حسین ولد کریم حسین، محمد یاسین ولد عبدالرزاق، وسیم احمد ولد حامد حسین، سعید اختر عرف کالا ولد برکت اللہ، عبدالاسلام ولد عبداللہ، سعید عرف کالا ولد شریف، عبداللطیف عرف کامران ولد عبداللہ، خوشی محمد ولد محمد ، محمد احسان ولد محمد اسحاق، محمد رضوان ولد محمد اقبال، محمدایوب ولد شمس الدین، محمد ریاض الدین ولد محمد سراج الدین، محمدکلیم ولد عبدالوحید، کبیر احمد ولد قیصر احمد کے نام شامل تھے۔

ذریعے کا کہنا ہے کہ نومبر2003میں متحدہ قومی موومنٹ کے مزید 7کارکنان جن پر دہشت گردی کے الزامات ہیں کو پیرول پر رہا کیا گیا۔ ہوم ڈپارٹمنٹ سے لیٹر21نومبر2003کو جاری کیا گیا جس کا نمبرSO(PRISION ii) HD/12-2003لکھا گیا۔ مذکورہ لیٹر سیکشن آفیسر شفیع الدین سیکشن آفیسر جیل خانہ IIکی جانب سے لکھا گیا تھا۔ جس میں متحدہ کے کارکنان ریاض سراج الدین ولد سراج الدین، عبدالسلام ولد عبداللہ، عبداللطیف عرف کامران ولد محمد عبداللہ، محمد رضوان والد محمد مطلوب، سعید عرف کالا ولد محمد شریف، سید علی قیصر نقوی ولد سید الطاف حسین، محمد جہانگیر ولد قمر الدین کو پیرول پر رہا کرنے کے لئے لکھا گیا تھا اور مذکورہ افراد پیرول پر رہا ہوئے تھے۔

اہم ذریعے کہا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اداروں نے متحدہ قومی موومنٹ کے پیرول پر رہا ہونے والے دہشت گردی کے ملزمان کے بارے میں مکمل کوائف جمع کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ اس حوالے سے سینٹرل جیل سے بھی اہم معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔امت کی جانب سے جب متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر متحدہ کے ذمہ داران سے بات کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا تو انفارمیشن میں موجود علی نے کہا کہ متحدہ کا کوئی ذمہ دار موجود نہیں ہے اور مہاجر قومی موومنٹ اور متحدہ  کے درمیان ممکنہ خونی تصادم کے حوالے سے کوئی بات کرنا نہیں چاہتے ۔
روزنامہ امت کراچی

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035