رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

31 March 2008 /  22 Rabi-ul-Awal 1429

محمد نعیم تبسم (گلشن اقبال کراچی

اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر

تہوارمنانا ہر قوم اور ہرمذہب میں رائج ہے۔ تہوار کسی ایسی تقریب کا نام ہوتاہے جس میں کسی قوم کو اجتماعی طور اچھے راستے پر چلنے کی ترغیب ملے۔برائیوں کو مٹانے کی فکر تازہ ہوجائے۔ اگر ان دوچیزوں میں سے کوئی بھی چیز کسی تہوار کے منانے میں مقصود نہ ہو تو تہوار کی روح ختم ہوجاتی ہے بلکہ ایسے تہوار کے ذریعے سادہ لوح قوموں کی غلط رہنمائی ہوتی ہے۔معاشرے کی بربادی کا آغاز ہمیشہ چھوٹی برائیوں سے ہوتا ہے ۔کہتے ہیں ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی لیکن ہمیں اہل مغرب کا سارا گند سونا ہی لگتا ہے ۔اور ان کی ہر برائی کو من و عن اسی طر ح اختیار کرنے کی ہم بھر پور کوشش کرتے ہیں ۔

ہمار ی رگ و پے میں مغرب کی ملحد اور مادی سوچ آہستہ آہستہ داخل ہونے کی وجہ سے ہماری ذہنیت بندروں کی طرح نقالی کی ذہنیت بن چکی ہے۔کیا انہی باتوں کی تقلید کرنے سے ہم اجتماعی ترقی کی طرف گامزن ہوجائیںگے۔

مغربیت کا کینسر مملکت خدادادکے ہرفردمیں بھی سرایت کرچکاہے۔ اور ہم قدم قدم پر مغرب کی نقل کررہے ہیں ۔برصغیر پاک و ہند کی عوام کو انگریز حکومت سے آزاد ہوئے سالوں گزر چکے ہیں لیکن اجتماعی طور پر ہم ساٹھ سال پہلے کی ذہنی غلامانہ زندگی جی رہے ہیںآج بھی من حیث القوم ذہنی طور پر مغرب کے ہی غلام ہیں۔ترقی اور کمال میں کسی کے ساتھ مقابلہ کرنا ب ±ری بات نہیں لیکن کیا روشن خیالی اور ماڈرن ازم ان فضول رسموں ہی کا نام ہے۔؟

اب تواچھی چیزوں کے نام پر بھی جو جشن منائے جارہےں وہ بھی برائی سے ہی شروع ہوتے ہوں اوربرائی پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ہم سائنس و ٹیکنالوجی، علوم و فنون پر دسترس رکھنے کی بجائے لاحاصل بحثوں اور غیر ضرروی کام میں مگن رہے۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا،اپنی الگ مکمل تہذیب ومعاشرتی نظام ہونے کے باوجود دوسروں کے نقش قدم پر چلنا تباہی کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے ۔شاعر مشرق علامہ اقبال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے مشرق کے فرزندعظیم او رمغرب کے سب سے بڑے نقادتھے انھوں نے ملت اسلامیہ کے متعلق ایک نصیحت اپنے شعر میں یوںکی ہے۔
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی (صلی اللہ علیہ وسلم)

جھوٹ سے دور رہئے کیونکہ جھوٹ دوزخ کا راستہ ہے جبکہ سچائی جنت کا راستہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذاق میں بھی جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔اور کسی مسلمان سے ایسا مذق کرنا جو تکلیف کا باعث بنے شرعاً حرام ہے ۔نبیصلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان کی تکلیف سے دوسرے محفوظ رہیں ۔

”اپریل فول“ جو دوسروں کے ساتھ عملی مذاق کرنے اور بیوقوف بنانے کا تہوار ہے۔اسکا خاص دن اپریل کی پہلی تاریخ ہے۔ یہ یورپ سے شروع ہوا اور اب ساری دنیا میں مقبول ہے۔ 1508 سے 1539 کے ولندیزی اور فرانسیسی تاریخی ذرائع سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ دن مغربی یورپ کے ان علاقوں میںمنایا جاتا تھا۔برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے شروع میں اس کا عام رواج ہوا۔ انگریز کی باقیات میں سے ہے جو ابھی تک رائج ہے اورہم انگریزوں کی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یوں یہ دن مشرق کی مخصوص تہذیب پر بھی حملہ ہے۔چند دیگر حوالہ جات کے مطابق یہ تہوار”اپریل فول “دراصل اٹھارویں صدی میں انگریزوں نے ہندوپاک کے مسلمانوں کو بے وقوف بنانے کے لیے استعمال کیا تھا۔اس طرح سے وہ مسلمانوں کو بے وقوف بناتے تھے اور پھر خوب ہنستے تھے۔یہ ان کی ایک تفریح کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔

یوں یہ مغرب کی رسمیں ہیں ۔ جن کوپاکستان کے لوگ اسے اہم دن سمجھ کر مناتے ہیں۔عربی زبان کا یہ قول ہمارے لئے کتنا اہم ہونا چاہئے کہ ” خذماصفا ودع ماکدر“ یعنی اچھی بات کو لے لو اور بری بات کو چھوڑ دو۔ہم اِس پہلو سے ناآشناہیں۔اور ایک غلط ذریعہ سے اپنے آپ کو خوشی اور تسکین پہنچانے کے لئے بعض دفعہ دوسروں کا بہت بڑا نقصان کر دیتے ہیں ۔

ایک بڑا مشہور قول ہے کہ جو قوم دوسروں کے پیچھے پڑ کر اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے لوگوں سے نفرت کرتی ہے اس کا زوال عنقریب ہوتا ہے۔ہم نے اس وطن اور آذادی کو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا ہے اب ہم اپنی فکری اور عملی زندگی سے اس مملکت خداداد کوپھر سے اسی غلامی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ اگرہم نے اپنی روش نہ بدلی تو ترقی کا خواب صرف خواب ہی رہے گا ۔اے اہلیان پاکستان یہ ذہن نشین کرلو کہ،تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ یہ
بسنت ، ویلنٹائن ڈے، اپریل فول، نیو ائرنائٹ اور دیوالی جیسے تہواروں پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کو نہیں، بلکہ اقوام کی فتوحات کو گنتی ہے۔“

 

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035