|
|
|
18
July
2008 / 14 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565
زیادتی کا رد عمل
فطرت صالحہ بھی کیا نعمت ہے کہ نیک اور پارسا فطرت ظلمت میں روشنی کی کرن ہوتی ہے ۔ایسے
انسان کا وجود خدا کی زمین کے لئے برکت ہوتاہے ۔لیکن دوسری جانب اگر بد فطرت انسان
معصیت کی جانب مائل ہوجائے اور درندگی پر اتر آئے ، تو انسان تو کیا جنگل کے درندوں
کوبھی پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ایسا انسان خلق خدا کے لئے ناسو رہوتاہے، اور دنیا اس کے
فتنے سے بچنے کی دعائیں کرتی ہے ۔
چوتھی صدی ہجری بغداد کا شہر ہے، جس طرح شیخ جنید بغدادی کی نیکی کی شہرت عام ہے
اسی طرح ابن ساباط کی بدی کی شہرت نے بھی ہلچل مچا رکھی ہے ۔ابن ساباط بغداد کے کسی
چھوٹے سے گمنام گاﺅں میں پیدا ہو ا ۔ماں باپ کا سایہ بچپن میں ہی اس کے سر سے اٹھ
گیا وہ کسی آتے جاتے قافلے سے ملا اور بغداد پہنچ گیا ۔ بغداد اس کے لئے نیا بھی
تھا اور اجنبی بھی۔وہ مارے مارے گلی محلوں میں پھرتا رہا ۔بھوک اور پیا س نے اسے
نڈھال کر دیا۔ وہ نان بھائی کی دکان پر گیا ۔وہاں سے چند روٹیاں چوری کیں اور
پکڑاگیا۔چوری کی پاداش میں ابن ساباط کو چبوترے پر لٹاکر تازیانے مارے گئے ۔سزا کے
بعد اسے رہا کر دیا گیا ۔یہ اس کی پہلی چوری تھی ۔اور زندگی میں اس نے پہلی سزا لی
۔
یہاں سے پھر ایسی کہانی شروع ہوئی جس نے اہل بغداد کی زندگی اجیرن اور آنکھیں دھول
کر دیں۔پہلی سزا نے اس کے دل سے خوف نکال باہر کیا ۔وہ ایک دلیر ،بے باک اوربہادر
مجرم بن گیا ۔ گویا کہ اس کی شقاوتیں اپنے ظہور کے لئے چند تازیانوں کی منتظر
تھیں۔جرم کے تمام راز اور گناہوں کے سب مخفی طریقے جو اس کے وہم وگمان میں بھی نہ
تھے ۔اس طرح کھل گئے جیسا کہ ایک ماہر مجرم کا دماغ اس کے سر میں اتار دیا گیا ہو ۔کچھ
ہی دنوں بعدوہ ایک عیار اور چھٹا ہو اجرائم پیشہ انسان بن گیا ۔اب وہ چھوٹی چھوٹی
چوریاں نہیں کرتا تھا۔پہلی مرتبہ جب اس نے چوری کی تھی تو دو دن کی بھوک اس کو نان
بائی کی دکان پر لے گئی تھی ۔لیکن اب وہ بھوک سے بے بس ہوکرنہیں بلکہ جرم کے ذوق سے
چوری کرتا ،اب اس کی نگاہیں نان بائی کی روٹیوں پر نہیںبلکہ صرافوں کی تھیلیوں اور
سوداگروں کے ذخیروں پر ہوتی تھیں۔رات ہو یا دن ،بازارہویامنڈی،ہر جگہ اس کی
کارستانیاں جاری رہتیں،اس کے اندر ایک فاتح کا عزم اور سپاہی کی مردانگی تھی ،عالم
بدی میں وہ کبھی کبھی نیکی بھی کرتا ۔اور لوگ سشدر رہ جاتے ،تاہم دنیا نے ابن ساباط
کے لئے یہی پسند کیا کہ وہ بغداد کے بازاروں کا چو رہو ۔
اس لئے اس کی صلاحیتوں کے تما م جوہر اس میں ہی نمایا ں ہونے لگے،حتیٰ کہ ایک مرتبہ
جرم چوری میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا گیا،لیکن وہ اب بھی باز نہ آیا ۔جوں جوں اس پر
تازیانے برستے وہ زیادہ عزم کے ساتھ میدان میں آتا،اس نے عراق کے تمام چور اورڈاکو
اکٹھے کرکے اپنا جتھا بنا یا۔وہ قافلوں پر حملہ کرتا ،بازاروں میں ڈاکے ڈالتا،
سرکاری خزانے لوٹتا اور یہ سب اتنی ہو شیاری سے کرتا کہ اس پر یا اس کے ساتھیوں پر
شبہ تک نہ ہوتا، لوگ اس کے مجرمانہ کارنامے سن کر مبہوت رہ جاتے ۔وہ چہ میگوئیاں
کرتے کہ یہ ڈاکو نہیں بلکہ جرم کی خبیث روح ہے ،جو لو ُٹ رہی ہے اور کوئی اسے چھو
بھی نہیں سکتا،یہ اہل بغداد کی سوچ تھی ۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ عرض ہے کہ جب ہر طرف
افرتفری ،اقربا پروری اور خود غرضی کے لازمی نتائج ظاہر ہوتے ہیں تو افلاس سے مجبور
بدبخت انسان جر م کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔معاشرہ اسے نظر انداز کرتا ہے۔چند دن گزرنے
کے بعد جرائم عام ہو جاتے ہیں اور لوگ ان کارستانیوںسے تنگ آکر ہائے ہائے کرنے لگ
جاتے ہیں،اور پھر یکا یک دنیا کی زبانوں کا سب سے بے معنی لفظ زبانوںپر آتا ہے ۔یہ
”قانون اور انصاف“ہے ۔
وہ لوگ جن کی عدم توجہ نے بھوکے اور مفلس کو چور بن جانے پر مجبور کردیا تھا،انصاف
کے روپ میں جلوہ افروز ہو کر حکم دیتا ہے ،مجرم کو سزا ملنی چاہئے اس نے چوری کی
ہے،چور کو سزا ملتی ہے مگر وہ باز نہیں آتا ،دوسرا حکم ہوتا ہے مجرم کو عمر قید
کردو یا سولی پر لٹکادو ۔مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہو تاااور سولی پر جھول
جاتا ہے۔تاہم اگروہ کسی طریقے سے بچ نکلے، توپھر جرم کرتا ہے ، اور دنیا کی کوئی
طاقت اسے باز نہیں رکھتی ، کیوں کہ وہ انسان ہے اور انسان کو بھوک لگتی ہے ، اور
شدت بھوک پارسا کوچور اور نیک کو ڈاکو بنا دیتی ہے کہ اسے برداشت کرنا بس میں نہیں۔
آصف زرداری نے کہا ہے کہ عوام انصاف (افتخار چوہدری) نہیں روٹی مانگتے ہیں اور ہم
عوام کو روٹی دیں گے زرداری صاحب کو نہیں معلوم کہ روٹی دینا ان کے بس میں اور نہ
ہی وہ دے سکتے ہیں ۔قرآن کہتاہے ”اور زمیں پر جو کوئی بھی ہے اس کے رزق کا ذمہ دار
اللہ تعالیٰ ہے“ رزق رساں کسی انسان کو سمجھنا انسانیت نہیں بلکہ فرعونیت ہے۔اس نے
کہا تھا ”انا ربکم الاعلیٰ“ میں تمہاراسب سے بڑا رب ہوںلیکن حقیقت اس کے بر عکس
نکلی۔اور وہ خود رہتی دنیا تک کے لئے عبرت بن گیا۔پورابغداد ابن ساباط کو ایک روٹی
نہ دے سکا ،تو اکیلے زرداری صاحب 38فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے
غریب عوام کوروٹی کیوںکر دے سکیں گے۔ سلیمان علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام
ہوئے کہا یارب چاہتا ہوں کہ تیری مخلوق کی دعوت کروں ،مالک نے کہا! سلیمان روزی
دینا تیر ا کام نہیں ہے ،اصرارکیا ، تو کہا کرلو ،تیاری شروع ہوئی ،کھانے پکے ،دن
ہفتے اور ہفتے مہینوں میں تبدیل ہوگئے دعوت تیار ہوئی،مالک کا مخلوق کو حکم ہو ا ،سمندر
سے ایک مچھلی آئی اور ایک ہی لقمے میں سب کچھ نگل گئی ،سلیمان علیہ السلام پریشان
ہوگئے، مچھلی سے مخاطب ہوئے اور پوچھا پیٹ بھر کر کھایا ،کہا نہیں!اس سے تو کئی گنا
زیادہ میرارب صبح صبح مجھے عطاکر دیتاہے ۔سلیمان علیہ السلام پکار اٹھے یارب! رزاق
تو ہی ہے ، رزق دینا کسی اور کا کام نہیں ،18فروری کے بعد کے حالات سے کتنے چولہے
بجھ گئے، کتنے گھروں میں سر شام چراغ نہیں جلتے ،اور کتنوں نے بھوک سے خود کشی کرلی
، کتنوں کی حالت مضطرب ہے ۔حکمرا ن عوام پر رحم کھائیں اس سے پہلے کی اس ملک کے
مفلس ابن سا باط بن جائیں۔ |
 |
|
|