|
|
|
27
June
2008 / 20
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565
نظر کی کرشمہ سازیاں
کسی شخص نے ”حضرت نجومی “ کو اپنا ہاتھ دکھاتے وقت پوچھا کہ جناب والا ! حصول دنیا
میں میری کامیابی کا امکان کہاں تک ہے۔نجومی نے صاحب کاہاتھ دیکھا اور چہرے پر
مُفکرانہ سوچ سجاتے ہوئے کہنے لگا کہ صاحب دنیا تمہار لئے اندھیر ہے، سکون تک میسر
نہیں ہوگا۔ حصول زر میں دربدر کی ٹھوکر یں کھاو گے۔اور بالآخر اسی کشمکش میں راہ
عدم کو سدھار جاﺅ گے۔ صاحب نے نجومی سے دوسرا سوال کیا جناب والا، میری عمر کتنی ہے؟
نجومی نے اس کا بھی کوئی اچھا جواب نہ دیا۔ صاحب نے سوال کیا ،سر آپ کی عمر کتنی ہے
؟نجومی نے سائل کی طرف گھور کر دیکھا اور متکبرانہ لہجے میں بولا میری عمر تو بہت
ہے۔ اور مجھے کوئی پریشانی بھی نہیں ہے۔ سائل کو غصہ آیا۔اس نے جیب سے پستول نکالا
اور نجومی پر تان دیا، نجومی حواس باختہ ہو گیا۔ اور منت سماجت پر اتر آیا، وہ سائل
کو لمبی عمر کی نوید سنانے لگا۔ اور خوشگوار زندگی کا واسطہ دینے لگا کہ خدارا مجھے
معاف کر دو۔ لیکن سائل نے نجومی کی ایک نہ مانی اور گولی چلا کر اسکی لمبی عمر کا
خاتمہ کر کے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ ماہر نجومیات کا علم کتنا ہے اور اس علم
میں حقیقت کتنی ہوتی ہے اس کا اندازہ کوئی بھی شخص ایک مرتبہ تجربے کے بعد بخوبی
لگا سکتا ہے۔نجومی بیچارے ایسی پیشن گوئیاں کرتے رہتے ہیں، گاہے گاہے عوام و خواص
کو اپنی کرشمہ سازیوں کیطرف متوجہ کرنے کے لئے یہ ”نسخہ کیمیا“ ہے، اچھی پیشن گوئی
بظاہرہر شخص کیلئے بڑی اہم ہوتی ہے۔ کیوں کہ زندگی کے خوا ب بڑے سہانے ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کیلئے بھی ایک پیشن گئی کی گئی ہے کہ وزیر اعظم صاحب
زرداری کو اہمیت دینگے۔ علم و دانش کے دلدادہ ہوں گے، نظم کے پابنداور پیپلز پارٹی
کے شریک چیئرمین سے ان کے تعلق خوشگوار رہیں گے۔ یہ پیشن گو ئی ماہر علم نجوم سید
انور فراز اور سید انتظار زنجانی کی پیش کردہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی بھی
شخص کو اگر سوچنے کیلئے صرف دو منٹ کا وقت دے دیا جائے تو چھانگا مانگا کے مناّڈوگر
سے لیکر کراچی کے پڑھے لکھے نوجوان تک ہر شخص اس سوال کا یہی جاب دیگا جو ماہر علم
نجوم نے دیا ہے۔ ان دنوں آپ کسی ٹھیلے پر کھڑے ہونے والے، بس میں کنڈیکٹری کرنے
والے، خان کے ہوٹل پر چائے دینے والے اور بھینس کالونی کے کسی گوالے(دودھ دھونے
والے) سے سوال کرلیں آپ کو ہر شخص یہی جواب دیگا۔ اگر آپ اس سے بھی زیادہ جاننا
چاہتے ہیں تو عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید اور مسلم لیگ فنگشنل کے پیر صاحب پگار سے
بھی کسب فیض کیا جاسکتا ہے۔ جناب شیخ صاحب بھی آئے دن ایسی پیشن گوئیاں کرتے رہتے
ہیں جیسا کہ انہوں نے پیشن گوئی کی تھی کہ الیکشن ہوتے نظر نہیں آرہے تاہم الیکشن
ہو گئے شیخ صاحب کی ضمانت ضبط ہو گئی، اور اب انہوں نے نئی پارٹی بھی جنم دےدی ہے۔
نامعلوم ان کو اب بھی کچھ نظر آرہا ہے یا نہیں۔ تاہم شیخ صاحب کیلئے مشورہ حاضر ہے
کہ وہ پہلی فرصت میں اپنی آنکھوں کا معائنہ ضرور کرالیں۔ اس سے پہلے کہ کوئی افتاد
آ پڑے، شیخ صاحب کا تازہ بیان ہے کہ بلی تھیلے سے باہر آئی، لیکن ابھی تک شیخ صاحب
تھیلے ہی میں ہیں وہ خود کب باہر آئیں گے اس اعلان کا انتظار نئی پریس کانفرنس تک
کرنا ہوگا۔
پیر صاحب پگارا بھی پیشن گوئی کر چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کا اتحاد
غیر فطری ہے چلتا نظر نہیں آرہا۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے اتحاد میں بہت سارے
خدشات جنم لے چکے ہیں اور آئے دن ڈراڑیں بڑھ رہی ہے۔ بے شمار ملاقاتیں ہو چکیں،
لیکن حتمی اور فیصلہ کن ملاقات کوئی بھی نہیں ہوئی، اختلافات برقرار ہیں ،اور اتحاد
جاری ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اس کا فیصلہ ہوتے ہوتے ہوہی جا ئے گا۔ آخر کچھ تو
ہونا ہی ہے۔ ملک میں پھیلی ہوئی انارکی نے ہر طبقہ فکر کو پریشان کر رکھا ہے،
زرداری صاحب نے بھی پیشن گوئی کی ہے ،کہ سب جانتے ہیں ، عوام افتخار چوہدری کا نہیں
روٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیوں کہ عوام بھوکے ہیں، عرض ہے کہ یہ لنگر کب شروع ہو
گا؟ جب کہ بھوکوں کو روٹی دینا حکمرانوں کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کسی بھوکے نے
کسی حکمران سے روٹی کا مطالبہ نہیں کیا۔اور نہ ہی کسی نے روٹی فراہم کی، زرداری
صاحب اور انکی پارٹی کو روٹی کی جتنی فکر ہے ، وہ تو بجٹ سے ہی ظاہر ہے کہ حکومت
بیچاری غریبوں کوریلیف دینے میں کتنی مخلص ہے ۔
تاہم پیشن گوئیاں عام ہیں تو سوچا کہ ہم بھی ایک آدھی پیشن گوئی کر دڈالیں، چنانچہ
عرض ہے کہ جس شخص کو بینظیر نے اپنا چیف جسٹس کہا تھا اور وزیر اعظم کے بقول ہم
محترمہ کے وعدے سے انحراف نہیں کریں گے۔ وہ اپنی اصل شناخت میں بحال ہوتا نظر نہیں
آرہا۔ زرداری صاحب نے روٹی کی بات کی ہے تو وہ بھی عوام کو ملتی ہوئی نظر نہیں آرہی،
امین فہیم صاحب وزارت عظمیٰ کے امید وار تھے اب عہدہ صدارت سے بھی فارغ ہوتے نظر
آرہے ہیں۔ مسلم لیگ نون ججوں کی بحالی کے بنیادی ایجنڈے سے سبکدوش ہوتی نظر آرہی ہے۔
پاکستانی سرحدیں امریکی غنڈوں کی بمباری سے محفوظ ہوتی نظر نہیں آررہیں۔ طالبان اور
قبائلیوں سے کئے گئے معاہدے قائم رہتے نظر نہیں آرہے،صدر مشرف ایوان صدر خالی کرتے
نظر نہیں آرہے، کون آرہا اور کون جارہا ہے، حالات اسکرین ہیں۔ چھانگا مانگا کے مناّ
ڈوگر سے لیکر بھینس کالونی کے گوالے تک سب جانتے ہیں حقیقت کیا ہے اور فسانہ کیا
ہے۔ایسے میں شاید نجومیوں سے خاکے بنوانے اور ان کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ |
 |
|
|