|
|
|
24
June
2008 / 18
Jamadil Akhir
1429 |
|
|
|
مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565
۔۔۔۔۔۔
برائے فروخت
سحر سامری سے زیادہ بہادر امریکی فوج جو سیل حوادث سے ٹکرانے کیلئے بے چین ہوا کرتے
تھے اب ذلت کے بہا و میں تنکو ں کی طرح بہتے نظر آتے ہیں، کہ ٹکر ایسے سر پھروں سے
ہے جن کی پرورش آگ و خون میں ہوئی ،اور تاریخی طور پر وہ سر زمین جس پر دشمن کبھی
فاتح نہ بنا، دیر سہی لیکن شکست مقدر ہے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے پالیسی ترتیب دی ، کہ مشرق و سطی میں کس طرح زیادہ دخل
اندازی ممکن ہو تاکہ پاکستان اور چین جو ایک دوسرے کے دوست ہیں انکی بڑھتی ہوئی
دوستی اور عروج پاتی ٹیکنالوجی کو لگام دی جاسکے۔ دنیا کے ہر خطے میں جگا داری کرنا
امریکہ اپنا حق سمجھتا ہے۔ ایک کو دوسرے کے ساتھ باہم دست و گریبان کر کے منچلے
تماشائی کی طرح دور کھڑے ہو کر انجوائے کرنا امریکی وطیرہ ٹھہرا ہے۔ امریکی نفسیات
ہے کہ دو کو آپس میں لڑا و اور حکومت کرو۔ دنیا بھر سے غلام ذہن ، چڑھتے سورج کے
پجاری اور مداری ڈھونڈو۔ انہیں اچھی تنخواہ کا چکمہ دو اور ملک کا حکمران بنا دو۔
سر بھی اسکا تو جوتے بھی اسکے ۔
یہ پالیسی کتنی کا میاب رہی اگر اس بارے تجزیہ کیا جائے تو کامیابی کا تناسب
90%رہا۔ اس کے پیچھے کیا حکمت عملی کار فرما ہے اور کون سے مقاصد پوشیدہ ہیں۔ ہر ذی
شعور شخص اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ دنیا پر حکومت کرنا امریکا کا سب سے بڑا خواب ہے
۔ طاقت اور اقتدار کس کو برا لگتا ہے۔ اقتدار رات کو دن اور دن کو رات بنا دیتا ہے۔
کسی پر حکم چلانے میں کتنا مزہ ہے۔ آقا آقا ہوتا ہے ،جبکہ نوکر آقا کی خواہشات کا
تکمیل کا ر،جب کبھی آقا نوکر سے خوش ہو کر داد کے چند جملے کہ دے تو نوکر بیچارے کو
مارے خوشی کے رات بھر نیند نہیں آتی۔ اقدار کے بدلے اقتدار کے سوداگر نوکروں کی
دنیا بھر میں کوئی کمی نہیں ہے۔
حامد کرزئی اور صدر مشرف بھی اسی قبیلے کے خانوادے ہیں جو بد قسمتی سے ایسے لوگوں
میں آن پھنسے ۔ ”کہ نہ نگلی جائے نہ اُگلی جائے“۔ دونوں کو زندگی کے لالے پڑے ہوئے
ہیں۔ ایک قندھار سے باہر قدم نہیں رکھتا تو دوسرا اسلام آباد کے علاوہ ملک بھرکے
گلی محلے بھو ل چکا ہے۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور جانے کو جی تو بہت چاہتا ہے
لیکن ہر طرف”غول عدو“ موجود ہے۔ کراچی پیپلز پارٹی کاوزیر اعلیٰ ہے ، تو لاہور میں
شہباز شریف ۔ جسکی آمد کے ساتھ ہی یہ اعلان خوشگوار ہو چکا ہے کہ سیدھے ہو جا و،
وگرنہ شہباز شریف سیدھا کر دے گا۔ رہ گیا پشاور اور کوئٹہ تو وہاں پر بلوچ سر پھرے
تو دوسری طرف محمود اچکزئی اور بہادر پختون۔ آخر میں گجرات تو اس کا حال کچھ اس طرح
ہے کہ!
تم بھی بن دیکھے گزر جا و گے ایک دن
اور کچھ سوچ کر ہم بھی تمہیں آواز نہ دیں گے
بات ہو رہی تھی امریکی فوجیوں اور ان کی قوت سامری کی۔جو خود محفوظ نہ ہو وہ کسی
دوسرے کی حفاظت کیا کرے۔ انسان ہے آخر تھک جاتا ہے ۔ مسلسل مشقت سے اعصاب ڈھیلے پڑ
جاتے ہیں۔ آٹھ سال ہونے کو آئے ہیں دن رات تگ و دو ، محنت، جدو جہد، کوشش بسیار،
لیکن نتائج پھر بھی غیر تسلی بخش۔ افغانستان کے کوہساروں سے لیکر واشنگٹن کے
ایوانوں تک”خلق خدا“ کمر بستہ لیکن چند غیر مہذب لمبے بالوںاور گھنی داڑھیوں والے
خرقہ پوش، ہر وقت ٹکرانے کیلئے تیار، جسم و جان پر بارود کی آگ تک برداشت ،لیکن کسی
امریکی کا افغانسان میں رہنا کسی صورت قبول نہیں ایک ہی اعلان ہے ”یا ہم نہیں یا تم
نہیں“۔ زندگی چاہتے ہو تو شام کا سوج ڈھلنے سے پہلے ہماری سرزمین کو خالی کر دو۔
وگرنہ ہم تمہیں خام خیالی کردیں گے۔ ملک بموں اور میزائلوں سے فتح ہوتے تو
افغانستان کب کا اجڑ چکا ہوتا۔ لیکن تاریخ کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ! جنگ جینے
کیلئے راسخ ارادوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ فاتح وہ ہوتا ہے جو کشتیاں جلاکر موت کو سینے
سے لگا لے۔ موت سے ڈرنے والے گورے اور گرل فرینڈ کی جدائی میں آنسو بہانے والے”
معصوم بدمعاش “بھلا کیسے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔نہیں معلوم یہ مٹھی بھر افغانی،
آندھی ہیں، طوفان ہیں یا طالبان ہیں۔ گنوں اور مزائلوں سے بڑھ کر جہازوں پر قبضہ
کرنے لگ گئے ہیں ۔ اوروہ بھی امریکی جہاز۔
آشنا ہم نے جسے طرز تکلم سے کیا
اس حریف بے زباں کی گرم گفتاری بھی دیکھ
امریکہ نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ جنہیں ہم جاہل، گنوار اور غیر مہذب سمجھتے تھی وہ سا
ئنس اور ٹیکنالوجی کے ”دادے“ کو بھی مات کر دیں گے۔ چنوک اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹر
پر قبضہ اور کوبرا کو بیچ دیا۔ ہوا دوش پر مسکراتے ایک دوسرے کو بتاتے ہوں گے ، ایک
بیچ دیا اب دوسروں کو گاہگ ڈھونڈو۔ کسی افغانی کے لئے یہ خبر قابل ا ہمیت نہ سہی،
لیکن واشنگٹن اور وائٹ ہاوس کی نیندیں اڑ چکی ہیں۔ کہ یہ کیا ہو گیا۔ حقیقت ہے یا
فسانہ، یقین ہے کہ گمان، شاید کہ ایسا نہ ہو۔ لیکن شاید کہ ایسا ہی ہے طالبان کا
اعلان ہے، بھاگ جاو وگرنہ اگلا قدم تمہاری طرف ہوگا۔ امریکی برائے فروخت، امریکیو!
سمجھ جا و اس سے پہلے کہ ایسا ہو۔ |
 |
|
|