رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

30 May 2008 / 25 Jamadi-ul-Awwal 1429

مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565


تمباکونوشی ایک خاموش قاتل

سعودی عرب امت مسلمہ کے ہرفرد کے لئے مرکزیت کی حیثیت رکھتا ہے اور جب تک کسی ادارے، تنظیم اور ملک کا مرکز محفوظ رہتا ہے تو اس وقت تک ادارے ، ملک اور تنظیمیں بھی محفوظ رہتی ہیں۔ اس طرح ہر مسلم کی دلی محبت اور لگاو حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب سے ہے کیوں کہ کعبتہ اللہ وہاں پر موجود ہے۔ جس کی زیارت کی تڑپ اسے عمر بھر بے قرار رکھتی ہے۔

پچھلے دنوں خادم حرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز نے سعودی عر ب میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں شہروں کو تمباکو نوشی سے پاک قرار دیا ہے۔ خادم حرمین جذبہ انسانیت سے سرشار ہو کر ملک سے ہر قسم کی برائی کے خاتمہ کا عزم کئے ہوئے ہیں جبکہ عوام اور غیر ملکی باشندے انسداد تمباکو نوشی کی کوششوں کو بہت سراہ رہے ہیں اور تعاون بھی کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے ادارہ انسداد سگریٹ نوشی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عبداللہ السروجی کی طرف سے سگریٹ نوشی کے نئی احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ جس کے مطابق سعودی عرب کی تمام مدارس، مساجد مارکیٹوں، پبلک پوائنٹ اور تجارتی مراکز میں سگریٹ بیچنے والی تمام کمپنیوں کو بند کر دیا جائے گا او ران کے لائسنس بھی منسوخ کر دیئے جائیں گے۔ اور پھر دوبارہ دکان کھولنے کی ہر گز اجازت نہیں ہو گی اور نہ ہی وہ لائسنس دوبارہ بحال ہو سکے گا۔ سعودی عرب میں پابندی کے ساتھ ساتھ سگریٹ کے خطرات کے پھیلاو کے بارے میں آگہی مہم کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے جس میں عوام الناس کو سگریٹ کے مضر اثرات کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔

سعودی معاشرے اور خاص طور پر نوجوان نسل میں سگریٹ نوشی کے منفی اثرات اور مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 40فیصد نوجوان سگریٹ نوشی کے پختہ عادی بن چکے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق نئی نسل میں سگریٹ نوشی کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جو اپنے مستقبل سے بے پرواہ ہو کراپنی صحت اور مستقبل کو خطرے کی جانب لے جارہے ہیں۔سعودی حکومت نے نوجوان نسل کو سگریٹ نوشی سے نجات دلانے کے لئے انعامی اسکیموں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔ کیونکہ نوجوانوں کی بہتر اور روشن مستقبل کے ساتھ سعودی عرب کی تعمیر و ترقی کا گہرا تعلق ہے۔اس لئے نئی نسل کو برائیوں سے دور رکھنے کے لئے ہر سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے۔

سعودی وزیر صحت ڈاکٹر حمد الحافع نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے قوانین کے مطابق یہاں کی مارکیٹوں میں جعلی دوائیں کسی صورت بھی فروخت نہیں ہوتیں۔ انہوں ںے کہا کہ عوام کی بہتر ی کے لئے یہاں تمام دوائیں حفظان صحت کے اصولوں کے تحت بین الاقوامی دوا ساز کمپنیوں سے منگوائی جاتی ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ لیبارٹریوں میں ان دوائیوں کے نمونے پیش کئے جاتے ہیں او رجو کمپنیاں مریضوں کی صحت سے کھیلنے کی جرات کریں گی انہیں قید اور جرمانے کی سزاوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سعودی حکومت کے یہ اقدامات انتہائی ستائش کے لائق اور قابل تحسین ہیں۔ یقیناً ان اقدامات سے معاشرے کی تطہیر ہو گی اور پر فضا ماحول کو نمو ملے گی۔

مگر دوسری طرف جب ہم دیکھتے ہیں تو پوری دنیا سگریٹ نوشی کے مرض میں مبتلا ہے۔ اس وقت دنیا میں 70کروڑ لوگ تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں۔ دنیا میں سالانہ پچاس لاکھ افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک سگریٹ پینے سے 30منٹ سے ایک گھنٹہ تک بلڈ پریشر زیادہ ہو جاتا ہے جبکہ تمباکو سے عارضہ قلب، حلق، معدے اور پھیپھڑوں کے سرطان کا مرض بھی لاحق ہو جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت 90فیصد مرد جو پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تمباکو کی وجہ سے ہیں۔

دنیا بھر سے براعظم ایشیاءمیں سب سے زیادہ سگریٹ نوشی کی جاتی ہے۔ ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان میں ایک سال میں اوسطاً 6ارب 14کروڑ روپے سے زیادہ سگریٹ نوشی پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں۔ تمباکو کا دھواں سونگھنے سے بہت سارے لوگ سرًان کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ آسٹریلیا میں 50ہزار بچے دوسروں کی تمباکو نوشی سے متاثر ہو کر اس مرض میں مبتلا ہیں۔ جبکہ ایک سگریٹ انسانی عمر میں 5تا8منٹ کم کر دیتا ہے۔ اس وقت دنیا کی آبادی 6ارب کے لگ بھگ ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر سال دنیا میں 6ارب ڈالر صرف سگریٹ نوشی کی تشہیر پر خرچ کر دیئے جاتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں 184ارب ڈالر صرف تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر خرچ کئے جار ہے ہیں۔دنیا میں سالانہ پچاس لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں پر ہر برائی فیشن کے طور پر کی جاتی ہے سالانہ 2لاکھ 50ہزار افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔

پاکستان ان 15ممالک میں شامل ہے جہاں پر تمباکو نوشی سب سے زیادہ کی جاتی ہے۔ جو ایک مہلک ترین رپورٹ ہے۔ سعودی عرب کی طرح گورنمنٹ آف پاکستان کو بھی اس بارے عملی اقدامات رکنی کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی پر ہسپتال، پبلک پوائنٹ، اسکولز میں 2003کو پابندی لگائی گئی لیکن 5سال گزرجانے کے بعد جہاں سے چلے تھے وہیں پر کھڑے ہیں۔

تمباکو نوشی کے خلاف اگر کوئی فوری اقدامات نہ کئے گئے تو ہماری نوجوان نسل تباہی سے دوچار ہو جائے گی جس کا ازالہ کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ وقت موجود ہے اقدامات ضروری ہیں۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035