|
|
|
30
May
2008 / 25 Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565
چراغوں کی حفاظت
یہ1971ءکے اوائل تھے۔ مملکت خداد کے حالات بہت دگرگوں ہوچلے تھے۔ 14 سال پہلے ہجرت
کے زخم سہنے والوں کو ایک اور کٹھن مرحلے کا سامنا تھا۔ دشمن کی کارستانیاں ہر بچے
بڑے کو پریشان کئے ہوئے تھیں۔ مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی ایسی شورشیں بپا تھیں
کہ سوچ لینے سے ہر پاکستانی کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے۔ انہی دِنوں علامہ احسان الٰہی
ظہیر کا سعودی عرب جانا ہوا۔ مصروفیات سے فارغ ہوکر جب وہ عمرہ کے لئے بیت اللہ
شریف پہنچے۔ دورانِ طواف ان کی نظر ایک فلسطینی پر پڑی۔ اس فلسطینی کی آنکھوں سے
آنسو جاری تھے۔ وہ کلبلارہا تھا۔ اس کی سسکیاں ہچکیوں میں اور ہچکیاں آہوں میں
تبدیل ہوگئیں۔ آنسووں کا سیل رواں تھا جو تھمنے میں نہیں آرہا تھا۔ علامہ صاحب اس
کے قریب آئے، رونے کا سبب پوچھا۔ فلسطینی نے جواب دیا: ”آج پاکستان کو خطرات لاحق
ہیں اور میں اللہ کے گھر میں بیٹھ کر پاکستان کے تحفظ کے لئے دعا کررہا ہوں۔“ علامہ
صاحب کہنے لگے: ”اے فلسطینی! تیرا تو اپنا گھر لٹ چکا ہے اور تو پاکستان کے تحفظ کے
لئے دعائیں مانگ رہا ہے۔“ اس نے جواب دیا: ”اگر پاکستان محفوظ رہا تو ایک دن ایسا
ضرور آئے گا جب بیت المقدس واپس مسلمانوں کے پاس آجائے گا۔“ شاید انہی آہوں بھری
دعاو ¿ں کے سبب اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ مقام عطا کردیا جس سے وہ ملت اسلامیہ
کی نمائندگی کرسکے۔
یہ 28مئی 1998ءکا وہ دن مجھے یاد ہے جب میں کالج کا طالب علم تھا۔ 29مئی کو ہمارے
اساتذہ ہمیں مبارکباد دے رہے تھے۔ یہ سہانی صبح تھی جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوکوئی
ڈاکٹر عبدالقادر، ڈاکٹر عبدالقدوس اور کوئی ڈاکٹر عبدالقہار کہہ رہا تھا۔ کسی کو
صحیح نام تک علم نہ تھا لیکن یہ بات سب کے لئے باعث فخر اور صد ہزار افتخار تھی کہ
پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا تھا۔ ہر چہرے پر مسکراہٹیں کھیل رہی تھیں۔
یہی وہ دن تھا جب دنیائے کفر نے دانتوں میں انگلیاں دبالیں اور عالم اسلام نے
شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ طالب عالم سے لے کر پروفیسر تک، کسان سے زمیندار تک اور
ورکر سے لے کر آنر تک.... ہر شخص کی جبین نیاز اللہ کی بار گاہ میںجھک گئی۔ تاکہ اس
کی نوازش کا شکریہ ادا کیا جاسکے۔ یہی وہ دن تھا جب 5صدیوں کی پستی وذلت کے بعد ملت
اسلامیہ ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہی تھی۔
مغرب کے لکھنے والوں کے قلم خشک ہورہے تھے اور مسلم مو ¿رخ تاریخ میں ایک نئے اضافے
کا سنہری باب باندھ رہے تھے۔ اسلامی دنیا کے اخبارات وجرائد اپنی شہ سرخیوں میں
”نصر من اللہ وفتح قریب“ کا نقشہ پیش کررہے تھے.... لیکن پھر ایک وقت آیا اور حالات
نے پلٹا کھایا۔ 9/11کو جھوٹا پروپیگنڈہ رچایا گیا۔ اس کی آڑ میں افغانستان کو پتھر
کے زمانے اور ایٹمی قوت کے خالق عزت مآب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پس دیوار زندان
کردیا گیا۔ قومی ہیرو کی تذلیل کی گئی۔ سرکاری ٹی وی پر لاکر معافی منگوائی گئی۔
حکمرانوں نے اپنی بونی خواہشات کو قدآور کرنے کے لئے ہراس نظر یے کو اپنے آقاو ¿ں
کے قدموں میں ڈال دیا تھا جس سے اس ملک کی آن بان تھی۔
خواہشات اور آرزوئیں انسان کی فطرت ہیں لیکن احترام آدمیت کا مذاق اُڑانے سے تو
خالقِ اکبر بھی ناراض ہوجاتا ہے۔ تو پھر کیونکر بھارت کے غرور کو خاک میں ملانے
والے ڈاکٹر خان کی توہین کی جائے؟ ان پر پابندیاں لگائی جائیں؟ عزت افزاءکارنامہ سر
انجام دینے والے کو قید وبند میں رکھ کر کب تلک اس کی روح کو کچوکے لگائے جاتے رہیں
گے؟ احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے نہ کہ احسان فراموشی، احسان پرشکر گزاری کی جاتی
ہے نہ کہ ناشکری، ہر کسی سے شکوہ کرنے والا لاشعوری طور پر اپنے خالق سے شکوہ کناں
ہوتا ہے۔ علم ودانائی کا تقاضایہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شکایت گھٹتی اور شکر
گزاری بڑھتی چلی جائے اور بالخصوص جب کامیابی ملی ہو۔ یہ دنیا امتحان اور آزمائش ہے،
اس میں نعمت بھی ہے اور راحت بھی۔ چھوٹی چھوٹی مسرتیں ہےں کہ اگر احساس بیدار ہو
اور اندازِ فکر مثبت تو آدمی نہال ہوجاتا ہے۔ قربانی کی قدر کرنا سیکھ وگرنہ آنے
والے کل تک قربانی کا جذبہ معدوم ہو جائے گا اور تم سربازار گنگناتے پھروگے
سب روشنیاں روٹھ گئیں ہم سے یہ کہہ کر
تم اپنے چراغوں کی حفاظت نہیں کرتے
وقت آچکا ہے کہ ادارک کرلیا جائے۔ صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اس کو بھولا
نہیں کہتے۔ قدرت نے موقع دیا ہے خوداحتسابی کا۔ اب اگر وقت نکل گیا تو 65، 71 اور
99ءکے شہیدوں کے لئے ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہوگا۔ جن کی جوانیاں اس راہ کی نذر
ہوگئیں۔ ایٹمی قوت بننا جن کے خواب، تحفظ وطن جن کی مراد تھی۔ آخر میں اپنی نظم
احترام عقیدت میں ڈاکٹر خان کی نذر کرتا ہوں ۔
یہ عزت، یہ شان تم سے ہے
ملی جو نئی پہچان، تم سے ہے
تم نے کتنی مشکلوں، کتنی رکاوٹوں میں جو کام کیا
روشن ملک کا نام کیا
تمہارے عزم کی ہم داد دیتے ہیں
تم نے ہالینڈکے محلوں کو چھوڑا
تم نے اپنے خون سے اس کی نیو ڈالی
اس تعمیر میں تمہارا پسینہ شامل ہے
تو ہی تو اس کا حامل ہے
عشرت تجھے بلاتی رہی
سہانے خواب دکھاتی رہی
مگر تونے خودہی تو کہاتھا
میں اب بنےے کو دیکھ لوں گا
پھر تیرے ساتھ قوم ساری تھی
اعتماد کی قیمت بڑی بھاری تھی
تو سرخرو رہا اور خوب رہا
تو نے اس زمین کو حصار دیا ہے
ماں سے بڑھ کر پیار دیا ہے
تیر ایہ کارنامہ دشمن کو ایک آنکھ بھاتا نہیں ہے
وہ تجھ سے خفا ہے، ناراض ہے رنجیدہ ہے
مگر قوم کی دعائیں تیرے ساتھ ہیں
تیرے تحفظ کے لئے ہاتھوں میں ہاتھ ہیں
یہ ساری آن بان تم سے ہے
ملی جو نئی پہچان تم سے ہے
تمہارے چہرے کی پیشانی کی شکنیں مجھے بتاتی ہیں
اب بھی تمہارے سینے میں بجلیاں کوند آتی ہیں
اور تم کمربستہ ہوجاتے ہو
ساری بیماری، ضعف کوپیچھے چھوڑ جاتے ہو
تمہارا یہ عزم تم کو مبارک ہو
اس ملک کے بچوں اور ماو ¿ں کی دعائیں تمہارے لئے ہیں
تمہاری خدمت کاکوئی ثمر ہم چکا نہ سکے
تجھ سے کئے ہوئے وعدے نبھا نہ سکے
ہمیں معاف کردو، ہمیں معاف کردو |
 |
|
|