رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

20 May 2008 / 14 Jamadi-ul-Awwal 1429

مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565


انجام

یہ1994ءکی بات ہے جب نوشہروفیروز سندھ کے ڈاکوو ں میں ایک بڑا نام ”ذوالفقار ہاجانہ “کا تھا۔ جسکو ذوالفقار کے بجائے لوگ ”ذُلّو“ ہاجانہ کے نام سے پکارتے تھے۔ ذُلو ہاجانہ کا طریقہ واردات بڑا مشہور تھا۔ جب وہ کسی گاوں یا شہر میں ڈاکہ ڈالنا چاہتا تو اس شہر اور گاوں والوں سے مطالبات کرتا جو مطالبات مان لیتا وہ ذلو ہا جانے سے محفوظ رہتا اور جو مطالبات کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھتا ذلو اس کا دشمن بن جاتا۔ اس گاوں کے معززین کو اٹھاتا۔ انکی گاڑیاں چوری کرتا گھروں میں گھس کر زیور سے لیکر کپڑوں تک لوٹ لیتا۔ اگر اہل گاوں جاگ جاتے اور کشمکمش بڑھ جاتی تو کئی لوگ دو طرفہ فائرنگ کی نذر ہو کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔

یہ وقت تھا کہ ہر ذلو کی وحشت رقص کرتی تھی۔مغرب کے بعد لوگ گھروں سے نہ نکلتے۔ شام کے بعد روڈ رستے بالکل سنسان ہو جاتے۔ دھاڑی کرنے والے مزدوروں تک کو اپنی کٹیا کی حفاظت کیلئے اسلحہ کا سہارا لینا پڑتا۔ جن بستیوں میں ایک پسٹل، ایک گن یا بندوق تک نہیں تھی وہاں پر 7ایم ایم،8ایم ایم ہر کسی کے پاس نظر آنے لگی۔ مغرب کے بعد ایک فائر ہو جاتا تو کئی گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہتی۔ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر مسجدوں میں جا کر پناہ لیتے تا کہ ڈاکووں سے بچ سکیں۔ جب کوئی ڈاکو مرجاتا تو لوگوں میں حوصلہ اور خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ شکرانے کے نوافل ادا کئے جاتے اور عوام ”اچھا ہوا مر گیا“ کہ کر خاموش ہو جاتے۔ پھرگردش لہل ونہارنے کروٹ لی وقت چلتا ہوا 21ویں صدی میں آپہنچا، ڈکیتیاں ہوتی رہیں، ڈاکے ڈلتے رہے۔ لوگوں کی عزتیں تک چھنجاتی۔ لاوا پکتا رہا حتی کہ 14مئی 2008کا وہ دن آگیا جب عوام نے قانون اپنے ہاتھ میں اور مسند عدل پر بیٹھ کر آن واحد میں فیصلہ سنا دیا ۔

یہ بدھ کا روز تھا۔ سورج نصف النہار پر تھا۔ رنچھوڑ لائن میں واقع ایک گھر کے دروازے پر دستک ہو ئی ۔ گھر سے کسی نے دروازے کی کنڈی کھولی اور تین ڈاکو گھر میں داخل ہوئے۔ گھر والوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔ عورتوں کو زیور نکالنے کا کہا، خواتین گھر کی جمع پونچی ڈاکووں کے حوالے کرنے لگی۔ ادھر سے گھر کا مالک اکبر وہاں آپہنچا تو ڈاکووں نے گولی چلا دی گولی اسکی کمر میں اتر گئی۔ خواتین جو کچھ دیر پہلے تک خوف وہراس میں مبتلا تھی اکبر کا خون دیکھاتو مشتعل ہو گئےں۔ عورتوں نے شورمچایا، چیخوں کی آواز سن کر محلے دار گھر کے باہر جمع ہو گئے۔ ڈاکووں نے سامان اٹھایا اور گھر سے باہر نکل آئے مگر ان کے باہر نکلنے تک گلی میںڈھائی تین سو افراد جمع ہو چکے تھے۔ لوگ آگے بڑھے، ڈاکووں کو پکڑا اور سڑک پر لٹا کر آپریشن شروع کر دیا، لاتوں اور ٹھڈوں سے ڈاکو ادھ موئے ہو گئے ،ان کی پسلیاں تک ٹوٹ گئیں اتنے میں کوئی پیٹرول کا کین لایا، مجمعے سے چند نوجوان آگے بڑھے، ڈاکووں پر پیٹرول چھڑکا، ماچس نکالی ، تیلی جلائی اور ڈاکووں کو آگ لگادی، ڈاکو تڑپتے، چلاتے اور معافیاں مانگتے اوردنیا جہاں کے واسطے دیتے رہے لیکن ہجوم کے سامنے ڈاکووں کی ایک نہ چلی اور وہ تڑپتے ہو جان دے گئے۔

اسی طرح 17مئی کو ایک بس فائیو اسٹار چورنگی سے سخی حسن جانے کیلئے روانہ ہوتی ہے۔ بس میں دو نوجوان سوار ہوتے ہیں ، بس چلنا شروع کرتی ہے نوجوان پستول نکالتے ہیں اور مسافروں کو اپنی جیبیں خالی کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ لوگوں سے سامان لوٹنے کے بعد بس سے نیچے اتر کر دوڑنا شروع کردیتے ہیں، بس سے ایک مسافر ڈاکو ڈاکو کی آوازیں لگاتا ہے لوگ جمع ہوتے ہیں ڈاکووں کو پکڑ کر مارتے پیٹتے ہیں، پھر یکایک ایک نوجوان ان پر تیل چھڑکتا ہے، آگ لگاتا ہے اور ڈاکو تڑپنا شروع کردیتے ہیں۔ عوام تالیاں بجاتے ہیں، ڈاکو سسک سسک کر جان دیتے ہیں۔

جب میں نے یہ خبر پڑھی تو دوسرے لوگوں کی طرح مجھے بے حد افسوس ہوا۔ جبکہ میرے دوست”اچھا ہوا مر گیا“ والا پرانہ جملہ دھرا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی کتنے ہی لوگوں کی ایک موبائل کی خاطر جانیں لے لیتے ہیں۔ کتنے گھروں کو انہوں نے برباد کر دیا ہے۔ اور ان کی وجہ سے آج تک کتنے سہاگ لٹ چکے ہیں۔ لیکن میرا خیال تھا، یہ غلط ہوا ہے، غلطی کی سزا غلطی ہو تی ، گنا ہ کو گناہ کے ذریعے ختم نہیں کیا جاتا اور نفرت نفرت سے کم نہیں ہوتی۔ بلکہ اصلاح کیلئے حسن عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکو بہت ظالم تھے لیکن ظالم پر ظلم کرنا بھی تو ظلم ہی ہوتا ہے۔ قتل کرنا، گولی مارنا الگ بات ہے لیکن کسی مجرم کو آگ میں جلا دینا بڑا ہی گھناونا فعل ہے۔ جو کسی انسان کے لائق نہیں ہے۔ حتیٰ کہ کوئی مذہب یا معاشرہ تک اسکی اجازت نہیں دیتا۔ ڈاکووں کا انجام بہت ہی برا ہوا۔ مجرموں کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔ ذلو سے لیکر محب شیدی تک اور رنچھوڑ لائن سے لیکر مانسہرہ کے جنگلوں تک کتنے ہی مجرم ہیں۔ جن کا انجام خطرناک ہوا لیکن ڈاکووں نے ان سے کوئی سبق نہ لیا شاید کراچی میں جلتی ہوئی لاشیں اب کسی کیلئے سبق بن جائیں۔ اگر اتنا سا فائدہ بھی ہوا تو بہت اچھا ہے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035