|
|
|
16
May
2008 / 10
Jamadi-ul-Awwal
1429 |
|
مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565
جوانوں کو
میری آہِ سحر دے
یہ30 اپر یل 2008ءکا دن تھا۔ وفاقی اُردو یونیورسٹی کراچی میں 18ویں عالمی مشاعرے
کا انعقاد کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے عالمی مشاعرہ کراچی کی پہچان بن چکا ہے۔ ہر سال
باہر ممالک سے اردو ادب کا ذوق رکھنے والے شعرا اور سامعین کراچی تشریف لاتے ہیں۔
شعرا اپنا کلام پیش کرکے سماعتوں کو گرماتے ہیں اور سامعین سے داد وصول کرکے واپس
چل دیتے ہیں۔ اس سال بھی کچھ اسی طرح کا اہتمام کیا گیا لیکن پہلے کی نسبت شعرا کی
تعداد کم تھی جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اب کی بار صرف نامور شعراءکو ہی مدعو کیا
گیا ہے تاکہ معیاری ادب سنا جاسکے۔ مشاعرہ کی ابتدا ہوئی، ایک کے بعد دوسرا اور پھر
تیسرا شاعر اپنا کلام سنانے لگا۔ یہ سلسلہ شروع ہوا حتیٰ کہ آخر ی شاعر آنے سے پہلے
فجر کی اذان ہوگئی۔ یکے بعد دیگرے دو چار شعراءنے اپنا کلام سنایا اور مشاعر ہ اپنے
اختتام کو پہنچا۔ میں نے دوست سے پوچھا: ”ہاں! کیسا لگا؟“ اس نے قدرے تا ¿مل سے کہا:
”کوئی خاص نہیں۔“ میرا دوسرا سوال اپنے باذوق دوست سے تھا: ”آخر کیوں؟“
”بس ایک دوکے علاوہ وہی پرانی شاعری اور اکثریت ادب کے نام پر بے ادب، احساس سے
عاری، فکر ونظر کا فقدان، رات، چراغ، پھول، خوشبو، سحر، سمندر، صحرا کے بعد شاعری
کا اختتام.... بس یہی ادب رہ گیا ہے اور یہی شاعری ہے جس نے ان دوچار الفاظ کو
ترتیب دے لیا وہ شاعر ہے۔ کوئی دور تھا جب ادب ادب اور شاعری شاعری ہوتی تھی۔ کیسے
باکمال لوگ تھے اور کیا کیا نقش چھوڑ گئے؟ کس طرح قلم کو نوا بخشی اور امر ہوگئے۔
اکبر الہ آبادی، الطاف حسین حالی، محمد اقبال، مومن خان مومن، ظفر علی خان، ذکی
کیفی، حسرت موہانی، حفیظ جالندھری.... مرنے کے بعد بھی زندہ ہیں تو صر ف اس لئے کہ
اپنے قلم کے ساتھ معاشرے کی تطہیر کی اور اپنے فرائض سے کبھی غافل نہ رہے۔“
اہل قلم معاشرہ کے حسن وقبیح پر نقد کا حق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطلب تنقید حیات ہی
نہیں بلکہ تعبیر حیات بھی ادب میں شامل ہے۔ اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قوم کا ادب اس
کے اخلاق کا عکس ہوتا ہے۔ حکمران نظم ونسق مہیا کرتے ہیں۔ ان کا کام قوم کی زندگی
کے سیاسی اور معاشی پہلوو ¿ں کو محفوظ رکھنا ہے جبکہ اہل قلم قوم کی ذہنی نشوونما
کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور ان کے قلم سے اخلاقی قدریں تہذیب کے سانچے میںڈھلتی
ہیں لیکن صد افسوس! قیام پاکستان کے بعد ہمارے ادیبوں اور شاعروں کے فرائض تبدیل
ہوگئے۔ بے شک آزادی کے بعد جو حالات بنے ان سے اہل قلم کے دل ودماغ کو ضربیں لگیں
اور انہوں نے سینہ کوبی کی مگر یہ حقیقت ہے کہ اس کے ساتھ ادیبوں اور شاعروں کی
فکریں عدم توازن کا شکار ہوگئیں اور وہ مخصوص حالات کا شکار ہوکر کنگنوں اور چوڑیوں
کا نقشہ پیش کرنے لگے جن سے ان کے فرائض کا نقشہ ہی چوپٹ رہ گیا۔ ادبی ویرانی کا یہ
عالم ہوا کہ حقیقی علمی ادبی مذاق دھول ہوگیا۔ نقد ونظر کا معیار پست سے پست ہوتا
چلا گیا۔ فحش لٹریچر نے پنپنا شروع کردیا جو اتنا گھٹیا تھا کہ کوئی شریف گھرانہ
سنڈاس کی ان گٹھڑیوں کو اپنے گھر میں رکھنا پسند نہیں کرسکتا تھا۔ بعض ناول نگار
عشق وسرور میں اس قدر آگے نکل گئے کہ انہوں نے اسی کو فطرت نگاری سمجھا جس کا نتیجہ
یہ نکلا کہ بازار میں ادب کے نام پر جرم فروخت ہونے لگا۔
اقبال اور چند شعرا کے بعد اگر تجزیہ کیا جائے تو مایوسی ہوتی ہے کہ اکثر وبیشتر
شعرا میں ایسا نہیں جس نے معاشرے کی اصلاح کی ہو اور ملت کی پاسبانی کا حق ادا کیا
ہو۔ ادب تو صرف اسی صورت میں محفوظ رہ سکتا ہے کہ بازاری جنس نہ بنے لیکن جب ادب
بازاری جنس بن جائے تو پھر حقیقت دھندلا جاتی ہے اور بازار میں جس طرح، آلو، پیاز،
ٹماٹر اور دالیں بکتی ہیں اسی طرح ادب بھی فروخت ہوتا ہے۔ ایسے ادب میںقوم کے لئے
کوئی پیغام ہوتا ہے اور نہ کوئی نصب العین! بعض ادیبوں اور شاعروں کی خدمات کا
اندازہ کرنے کے لئے ان کی موت کا انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن آج ننانوے فیصد ادیب اور
شاعر ایسے ہیں جو اپنی زندگی میں ہی مرچکے ہیں یا آخری ہچکیاں لے رہے ہیں۔ کبھی وقت
تھا کہ شاعر جو کہتا تھا وہ دل میں اتر جاتا تھا۔ بقول اقبال جو دل سے نکلتی ہے اثر
رکھتی ہے، پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے۔
....اور شعر وہ ہے جو سنتے ہی دل میں اتر جائے۔ اقبال کا کمال یہی تھا کہ انہوں نے
مردہ رگوں میں خون تازہ پیدا کیا۔ اقبال بلاشبہ گزشتہ صدی کا سب سے بڑا شاعر تھا جس
نے ملت کو نصب العین دیا اور خواب غفلت سے بیدار کیا۔ تاریخ انسانی میں اقبال کو یہ
مقام حاصل ہے کہ وہ سب سے زیادہ پڑھا جانے والا نظریاتی اور فکری شاعر ہے۔ جس نے
برصغیر سمیت یورپ وامریکہ، قرطبہ وغرناطہ اور سمروقند وبخارا سے خطاب کیا۔ ظفر علی
خان برصغیر میں انگریزوں کو للکارتا رہا۔ حفیظ نے گرمی محفل پیدا کی لیکن پچھلے
دنوں اُردو یونیورسٹی میں شعرا اسٹیج پر براجمان تھے۔ پنڈال عوام سے کھچاکھچ بھرا
تھا۔ مائیک اور اسپیکر کا بہتر انتظام تھا لیکن اس بھر ی مجلس میں ”جوانوں کو میری
آہ سحر دے“ لکھنے والا اقبال نہ تھا۔ ”جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیںگے“
کہنے والا کوئی نہ نظر نہ آرہا تھا۔ ”کرے گر غیر بت کی پوجا تو کافر“ لکھنے والا
حالی اور قومی ترانے کا خالق حفیظ جالندھری اور ظفر علی خان کی دلوں کو گرمانے والی
پکار نہیں تھی۔ جن کے قلم سے اردو کی آبرو قائم ہے۔ کاش ہمارے ادیب کنگنوں، چوڑیوں،
اڑتے آنچل، بکھرتے بالوں کی دنیا سے نکل کر حقائق کی دنیا میں سفر کریں اور شاعرِ
رسول حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی فکر اور جدید اُردو کے عظیم شاعر اقبال کو
قافلہ ¿ سالار بناکر اپنی شاعری کے خطوط استوار کریں تاکہ ان کی کاوش ایک کے بعد
دوسری نسل کے لئے قومی معراج کی علامت بنے نہ کہ جنس بازار بن جائے۔ اس مشاعرے میں
سماعتوں کو بھانے والے ایک شاعر منور رانا کے چند اشعار ملاحظہ ہوں
مختصر ہوتے ہوئے بھی زندگی بڑھ جائے گی
ماں کی آنکھیں چوم لیجئے روشنی بڑھ جائے گی
بلندیوں کا بڑے سے بڑا نشان چھوا
اٹھایا گود میں ماں نے تو آسمان چھوا
بلندی دیر تک کسی شخص کے حصے میں کہاں رہتی ہے
بہت اونچی عمارت ہر وقت خطرے میں رہتی ہے
یہ ایسا فرض ہے جو میںادا کر ہی نہیں سکتا
میری ماں جب تک گھر نہ لوٹوں، سجدے میں رہتی ہے |
 |
|
|