رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

25 April 2008 / 18 Rabi-us- Sani 1429

مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565


ایک بار پھر دستک

تیرہ مارچ1924ءکا دن ملت اسلامیہ کو کس قدر نڈھال کر دینے والا تھا۔ جب ایک طرف ترکی سے خلافت اسلامیہ کی چولیں کھو دی جارہی تھیں تو دوسری طرف یورپ میں شادمانی کی محفلیں منعقد کر کے خلافت عثمانیہ کے خاتمے کی نوید سنائی جارہی تھی۔ کمال اتاترک اسمبلی میں پہنچا اور اسلام کی ابدی حقیقتوں کو جھٹلاتے ہوئے ایک ، نام نہاد تنگ ذہن، گھٹن والا مذہب قرار دیدیا۔ اس نے کہا اسلام اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ اپنے پیروکاروں کی قدم قدم پر رہنمائی کرتا ، ان کی سانس کو تنگ اور تمناو ¿ں کا خون کرتا ہے۔ ترقی یا فتہ دنیا کی دوڑ دھوپ میں شامل ہونے میں اسلام سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لہذا میں اعلان کرتا ہوں کہ آج کے بعد ترکی سے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کیا جاتا ہے اور آج کے بعد اسلامی قوانین واحکامات پر پابندی لگائی جاتی ہے۔

اتا ترک کا یہ اعلان کرنا تھا کہ سارے مغرب میںخوشیاں منائی گئیں۔ بھنگڑے ڈالے گئے۔ حمایتی بیان جاری کئے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اتاترک مغربی میڈیا کی آنکھ کا تارا بن گیا۔ یورپی میڈیا اس کی تعریف کرنے لگا اور حکمران اس کے ساتھ ویلڈن اتاترک ویلڈن کے جملوں کا تبادلہ کرتے ، شاباشی دیتے اور اتاترک نے اسلام پر پابندی لگائی۔ عربی رسم الخط ختم کرکے لاطینی رسم الخط کو رواج دیا۔ اسلامی لباس اور حجاب ممنوع قراردےدیا، ہیٹ کا استعمال مردوں اور عورتوں کے لئے لازمی قرار دیا۔ مسجدوں کو تالے لگادیئے۔ قرآن مجید،احادیث،سیرت اور فقہی کتب کی اشاعت بند کردی۔ دینی تعلیم کو ختم کردیا، حتی کہ عربی میں اذان دینے پر بھی پابندی لگادی معاشرے میںفحاشی وعریانی کو عام کیا۔ شراب خانے اور جوئے کے اڈے کھولے قانون بنایا گیا کہ شراب کے بغیر ملک کا کوئی ہوٹل نہیں کھلے گا۔

اتاترک کی حماقتوں کے نتائج ظاہر ہوئے تو معلوم ہوا کہ ایک نسل کے بعد ترکی میں قرآن مجید پڑھنے والے لوگوں کی تعدادانگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔تب تلک نئی نسل کے لئے عربی رسم الخط غریب اور اذان اجنبی بن چکی تھی۔ اتاترک کی پالیسیوں کی بدولت ترکی کے قحبہ خانوں کا شمار دنیا کے بڑے بڑے قحبہ خانوں میں ہونے لگا۔ برطانیہ اور جرمنی کے بعد شراب کی بڑی فیکٹریاں اور سپلائی ترکی میں ہونے لگی۔ فاحشہ عورتوں اور طوائفوں کے بازار منعقد ہونے لگے۔ اسکولوں کا لجوںاور یونیورسٹیوں سے باپردہ طالبات کے نام خارج کردیئے جاتے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک رکن اسمبلی جو اسکارف پہنتی تھی اس کو حلف اٹھانے کی اجازت تک نہ دی گئی۔

ترکی کا یہ ماحول اور اسلام دونوں متضادبن چکے تھے۔ یورپ کا خیال تھا کہ اب ہمارا کلچر ترکی میں ڈویلپ ہو چکا ہے۔ انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی کہ اسلام کے ماننے والے نابود ہوگئے ہیں ان کی خوش فہمیاں بڑھتی رہیں۔ وقت سرکتا رہا، رات کی تاریکی سحر میں ڈھلتی گئی اور چلتے چلاتے 3 نومبر 2002کا دن آیا۔ ترکی میں الیکشن منعقد ہوئے۔ خیال کیا جاتا تھا کہ طویل جدوجہد کے بعد اتاترک کا فلسفہ رنگ لا چکا ہوگا۔ لیکن علی الرغم ترکی کی اسلام پسند جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی نے550سے362نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے اتاترک کے فلسفے کو زندہ درگور کردیا۔

قوم78سال بعد بیدار ہوئی تواس نے اسلام مخالف جماعت اور نام نہاد سیکولر ازم کی عمارت کو پل بھر میں زمین بوس کردیا۔ اور ترکی میںنئے سرے سے اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز ہوگیا۔ 78سال کی مسلسل محنت کے بعد ترکی کو ایک مرتبہ پھر اسلامی روایات کو اپنانے کی اجازت مل لی مگر یاد ہے۔ ان سالوں میں ترکی عوام کسی انقلاب کے انتظار میں نہیں رہی اور نہ ہی کسی مسیحا کی آمد کی راہ تکتی رہی۔ بلکہ انہوں نے ہرحال میں اپنی بساط کے مطابق جدوجہد کی۔ ان کے سیاستدان میدان سیاست میں برسر پیکار نظر آئے، ان کے پروفیسر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلباءکی ذہن سازی کرتے رہے۔ ان کے مزدور فیکٹریوں اور ملوں میں ایک دوسرے کو اسلامی تعلیمات کا درس دیتے رہے۔ ان کے طلباءنئی نئی تحریکیں برپا کرتے، ان کی عورتیں گھروں اور میٹنگز حال میں اسلام کی نشاة ثانیہ کے لئے پروگرامز منعقد کرتیں۔ نیز یہ کہ حکمران سے لیکر مزدور تک اور کسان سے لیکر پروفیسر تک ہر طبقے نے اپنی اپنی کوشش کی اور پونی صدی بعد ان کی سعی بارآور ثابت ہوئی۔ ترکی انقلاب کی راہ برگامزن ہو گیا۔ ہمارے ہاں بھی اس طرح کے کئی سوالات کئے جاتے ہیں۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان کا فیو چر کیا ہے؟ وہ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کا مستقبل کیا ہے؟ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جہاد کشمیر سعی لا حاصل ہے۔ لیکن میں ان سے عرض کروں کہ 78سال تک یورپی تہذیب کا لبادہ اوڑھنے والے ترکی میں تبدیلی کیسے آئی؟1857ءمیں برصغیر کے مسلمانوں نے برطانوی غلامی کے باوجود علم جہاد کیوں کر بلند کیا؟ لبنان کے انتخابات میں حماس کیسے برسراقتدار آئی اور1989ءمیں افغانستان میںروس کی شکست کا کیا مطلب ہے۔ یہ واقعات دلیل ہیںکہ، اسلام اور جہاد مٹنے کے لئے نہیں بلکہ مٹانے کے لئے آئے ہیں۔ اسلام کی قوت لازوال قوت ہے۔ اس کی حقانیت میں بھی کوئی شک نہیں۔ لیکن اس کے نفاذ کے لئے ترکی کے انقلاب کی ضرورت ہے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کر دار ادا کرنا ہوگا بوڑھے یہ نہ سمجھیں کہ زندگی بیت چکی ہے اور ان کا کام صرف ماضی کے واقعات یاد کرنا اور محفلیں جمانا ہے۔ بچے یہ نہ سوچیں کہ ابھی ان کے کھیل کود کے دن ہیں۔ اور نوجوان حقائق سے چشم پوشی اختیار نہ کریں۔ کہ ان کا کام یونیورسٹیوں میں دل لگی کرنا اور مستقبل میں اسٹیٹس بنانا ہے۔ بلکہ ایک ہمہ تن انقلاب کی ضرورت ہے۔ مغرب اپنے مفادات کے حصول کے لئے تادیر پالیسیاں بناتا ہے اور منصوبہ بندی کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ، مسلم ممالک میں ایسی کوئی دوراندیشی نظر نہیں آتی ترکی میں اسلامی قوتوں کا زور پکڑنا ملت اسلامیہ کے لئے بڑا ہی خوشگوار ہے۔ اور امید کی جاتی ہے کہ ترکی سے اٹھنے والی اسلامی تحریک ایک مرتبہ پھر یورپ کے دروازوں پر دستک دے گی۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط اور ملت اسلامیہ کو اس کا کھویا ہوا مقام دلانے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔
اگر عثمانیوں پرکوہ غم ٹوٹا تو کیا کم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
 

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035