رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

17 April 2008 / 10 Rabi-us- Sani 1429

مصور عظیم انجم
anjum000@gmail.com
0321-2660565


ہلاکت قریب ہے۔

پروفیسر لیوپولڈ ویس 1920ءکی دھائی میںجرمن کی برلن یونیورسٹی کا استاد تھا۔ وہ فلسفہ کے موضوع پر لیکچر دیا کرتا تھا۔ برلن یونیورسٹی تک پہنچنے کے لئے وہ ریل گاڑی پر سفر کرتا، جو اس کے روزانہ کے معمول میں شامل تھا۔ لیوپولڈ ہر وقت کسی نئے نظریے کی تخلیق کے بارے میں سوچتا رہتا۔ وہ ہر چیز کی اصل حقیقت جاننا چاہتا اور پھر اس کے لئے کوشش شروع کردیتا۔ گاڑی میں دوران سفر مسافر اپنے اپنے خیالوں میںکھوئے رہتے۔ کوئی اخبار کا مطالعہ کررہا ہوتا تو کوئی گاڑی سے باہر کے دلکش مناظر سے لطف اندوز ہورہا ہوتا، لیکن پروفیسر لیوپولڈ ویس فلسفہ کا استاد تھا۔ وہ اخبار یا کتاب کی بجائے عوام کے چہروں کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہتا۔ وہ اپنے تئیں لوگوں کے چہرے پڑھنے کی کوشش کرتا اور یہ جانچنے کی کوشش کرتاکہ لوگوں کے دلوں پر کیا بیت رہی ہے؟ ایک روزاس پر منکشف ہوا کہ تمام مسافروں میں ایک ہیجان پایا جاتا ہے اور وہ سب خوشی ومسرت کے جذبے سے خالی ہیں ۔ لیوپولڈ نے اپنی فکر کو مزید وسعت دی اور اس نے دیکھا کہ لوگ گپ شپ بھی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ مذاق بھی ہے۔ ہنستے مسکراتے بھی ہیں لیکن یہ تمام چیزیں بے معنی سی لگتی ہیں۔ حقیقی خوشی کا تاثر ان کے چہروں پر نہیں ابھرتا جبکہ بچوں کے چہروں پر جو خوشی ہے وہ حقیقی ہے۔

لیوپولڈ کو خود بھی اس انکشاف پر حیرت ہوئی۔ اس نے برلن یونیورسٹی کے اپنے ساتھیوں سے اس بات کا تذکرہ کیا کہ آخر کیا وجہ ہے وہ لوگ جنہیں اچھی ملازمت حاصل ہو، معاشرے میں اعلیٰ مقام ہو دنیا کی تمام آسائشیں میسر ہوں.... وہ خوش کیوں نہیں؟ انہیں اور کیا درکار ہے؟

لیوپولڈ کو اس سوال کا اطمنان بخش جواب کہیں سے نہ ملا۔ بالآخر ایک دن اس نے گھر پہنچ کر ایک کتاب کھولی تو جو صفحہ پہلی نظر میں اس کے سامنے آیا اس پر یہ تحریر تھا ”غفلت نے تمہیں بہتات کی حرص میں مبتلا کردیا یہاں تک کہ تم نے قبریں جادیکھیں۔“ یہ کتاب قرآن مجید تھی اور یہ الفاظ سورہ التکاثر کے تھے۔ ابتدائی دو آیات پڑھتے ہی لیو پولڈ کو اس کا جواب مل گیا۔ قرآن نے اس کو بتادیا کہ اچھا روزگار، کاروبار اور بہترین آسائشوںکے باوجود بھی وہ خوش اس لئے نہیں کہ بہتات کی حرص نے انہیں پریشان کررکھا ہے۔ مزید طمع انہیں ہر دم بے چین رکھتی ہے یہاں تک کہ وہ موت کو سامنے کھڑا دیکھ لیتے ہیں۔

اس حقیقت کو سامنے رکھ کر اگر غور کیا جائے تو آج امریکہ بہادر بھی اسی روش پر گامزن ہے۔ دنیا کے جس خطے میں اسے اپنے مفادات نظر آتے ہیں وہ کئی کئی بہانے گھڑتا ہے اور پھنکارنا شروع کردیتا ہے۔ گزشتہ آٹھ سالوں سے بالخصوص ملت اسلامیہ اس کے خونیں پنجوں کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ کوسوو سے لے کر مراکش تک اور انڈونیشا سے لے کر افغانستان تک پاکستان سمیت امت مسلمہ کا کوئی ملک ایسا نہیں جو امریکہ کے نشانے پر نہ ہو۔ اگر پاکستان کوہی دیکھ لیا جائے تو گزشتہ آٹھ سالوں میں امریکہ نے پرویز مشرف کے کاندھوں کو استعمال کرتے ہوئے کیا کیا گل نہیں کھلائے؟ اسی عرصہ میں امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی کا نیٹ ورک ملک کے کونے کونے میں قائم کیا گیا۔

لال مسجد، جامعہ حفصہ، باجوڑ، وزیر ستان، وانا کو صرف امریکی خواہشات کی تکمیل پر ”تورا بورا“ بنادیا گیا۔ ان آٹھ سالوں کی نام نہاد جنگ میں جتنے پاکستانی راہ عدم کو سدھار گئے ان کی تعداد بھارت کے ساتھ لڑی جانے والی تین جنگوں سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا لیکن اس کی آنکھ میں پاکستان کھٹکتا رہا اور بالآخر داو ¿ پیچ کھیلتے ہوئے وہ کسی نہ کسی طور پاکستان میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوگیا۔ اب اس کی نظریں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر لگی ہوئی ہیں۔ دوسری طرف اس نے روس کو بھی اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش شروع کردی ہے۔ اب پاکستان کے خلاف پہلے سے بھی زیادہ گھناو ¿نی سازشیں شروع ہوگئی ہیں۔ بھارت روس گٹھ جوڑ پاکستان کے وجود کو ختم کرنا ہے۔ روس کو اپنی شکست اور افغانستان میں لگے ہوئے زخم کبھی نہیں بھولے۔ 1989ءمیں روس کو افغانستان سے نکالا گیا تو اس عمل میں سب سے آگے پاکستان تھا اور اب روس پاکستان سے اپنی تباہی کا بدلہ لینے کا خواہشمند ہے۔

افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میںنعرہ تکبیر کی گونج میں لگے ہوئے زخم روس کو کسی طور سکون نہیں لینے دیتے جبکہ واشنگٹن پوسٹ میں امریکی صدر ہنری کسنجر کا بیان شائع ہوا ہے، جس میں اس نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر قبضہ امریکہ کی پہلی ترجیح ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ کو باور کرادیں کہ جو ہوا وہ ہوگیا، اب امریکی مطالبات کو ان کے منہ پر مارا جائے گا، جس طرح نئی حکومت نے گیارہ نئے مطالبات امریکہ کے منہ پر دے مارے ہیں لیکن حرص اور ہوس ایسی چیزیں ہیں جو کبھی مکمل نہیں ہوتیں اور بعض اوقات بے جا حرص ملکوں اور معاشروں کو لے ڈوبتی ہے جس کی مثال افغانستان اور عراق میں امریکی ذلت کی صورت میںپوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

امریکہ کو کون بتائے کہ حریص کی خوشیاں چھن جاتی ہیں۔ لالچ وطمع والے چہروں پر مسرت نہیں آیا کرتی۔ اورہوس کے پیروکاروں کے لئے خوشی کے شادیانے نہیں بجا کرتے۔ کاش! امریکہ سمجھ جائے کہ اب ملت اسلامیہ بیدار ہوچکی ہے۔ اس کے نوجوانوں کے بازو ¿وں میں بجلیاں اور سینوں میں برق کوندرہی ہے اوروہ امریکہ کو مٹانے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ کاش! اسے بھی وہ بات سمجھ آجائے جو پروفیسر لیوپولڈویس پر منکشف ہوئی تھی۔ ”غفلت نے تمہیں بہتات کی حرص میں مبتلا کردیا یہاں تک کہ تم نے قبریں جادیکھیں۔“
 

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035