|
|
|
30
July
2008 / 26 Rajab-al-Murajjab
1429 |
|
|
|
اممتاز
حیدر
mhaider84@gmail.com
03215473472
عراقی بچوں کو عیسائی بنانے کیلئے مشنریاں سرگرم
امریکی ظلم کی چکی میں پس رہے
عراق میں اب ارتداد کی لہریں بڑی تیزی سے اٹھنے لگی ہیں۔ عیسائی مشنریاں سارے عراق
میں دندناتی پھر رہی ہیں اور ان کے نشانے پر وہ بچے ہیں جن کے والدین جنگ کی بھینٹ
چڑھ چکے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ فلوجہ اور اس کے اطراف کے علاقوں اور دیگر شہروں میں
اتحادی افواج کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے عراقیوں کے لاوارث بچوں کو عیسائی
مشنریاں اغوا کرتی ہیں اور اگر ان لاوارث بچوں کے رشتے دار ان کی طلبی کرتے ہیں تو
انہیں یہ جواب دے کر چلتا کر دیا جاتا ہے کہ بچے بھی جنگ کا شکار ہوئے ہیں اور
انہیں دفنا دیا گیا ہے۔ رشتہ داروں سے جھوٹ بول کر اغوا شدہ بچوں کو پہلے فوج کے
حوالے کیا جاتاہے اور وہاں سے انہیں عیسائی مشنریاں اپنے تابع میں لے لیتی ہیں، پھر
ان بچوں کی ذہن سازی شروع کردی جاتی ہے اور انہیں باقاعدہ عیسائی مذہب میں داخل
کرلیا جاتا ہے۔
عیسائی مشنریاں ان دنوں امریکہ کی اس صلیبی جنگ کو اپنے لئے ایک چیلنج سمجھ کر عراق
میں سرگرم ہیں۔ عراق بھر میں بائبل کے نسخے پچاس پیسے فی نسخہ کے حساب سے تقریبا
مفت تقسیم کئے جارہے ہیں، جبکہ قران پاک کا ہدیہ کئی سو روپئے ہے۔
امریکی ریاست اریزون کی راجدھانی وینکس میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران مشنریوں کے
ایک عہدیدار نے کہا کہ ہماری تنظیم کو عراق کی تاریخ کو بدل کر رکھنے کا سنہری
موقعہ حاصل ہے۔ مذکورہ عہدیدار نے انٹرنیشنل مشن یونٹ بورڈ نامی چینل کو انٹرویو
دیتے ہوئے عراق کے ان شہروں کی نشاندہی کی جن میں عیسائی مشنریاں عیسائی انقلاب
برپا کرنا چاہتی ہیں۔ شمالی کردستان موصل، کرک، تکریت، کربلا اور نجف وہ علاقے ہیں
جہاں عیسائی مشنریز تاریخ کا کایا پلٹ دینے کے عزائم رکھتی ہیں۔
امریکہ کے ٹائم میگزین نے ڈاون نامی ایک عیسائی تنظیم کے رکن ریچھانی کے حوالے سے
لکھا ہے کہ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ کے دوران عیسائی مشنریوں کو کام کے ویسے
مواقع حاصل نہ ہوسکے جیسے مواقع عراق میں حاصل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراق جنگ
ہم مسیحیت کی تبلیغ کرنے والوں کیلئے نعمت غیر مترقبہ ہے۔ مسیحیت کے کسی بھی مبلغ
کو عراق میں داخل ہونے کیلئے صرف امریکی پاسپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ برطانوی صحافی
ڈاویڈینی کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی مشنری کارندے خفیہ اور منظم طریقہ پر
انسانی امداد کے پردے میں کام کر رہے ہیں۔ ڈاویڈینی کہتا ہے کہ عراق میں کام کرنے
والی امریکی عیسائی مشنریاں یسوع مسیح کی ویڈیو فلم اور بائبل کے عربی ترجمے بڑی
تعداد میں عراق منتقل کر چکے ہیں۔ اس مہم کا نام مسلمانوں کی بے دینی سے حفاظت رکھا
گیا ہے۔ اوکلاہا ما ریاست کے مشنری عہدیدار ارسام پورٹر نے برملا اعلان کیا کہ ان
کی تنظیم عراق میں انسانی امداد کا کام کررہی ہے لیکن اس کام کا مقصد صرف انسانی
امداد ہی نہیں بلکہ یہ کام رب کی محبت کو عام کرنے کی مہم ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 100 سے زائد عیسائی تنظیمیں عراق میں داخل ہو چکیں ہیں جن میں
سے سب سے بڑی اور نمایاں تنظیمیں درج ذیل ہیں۔ 1۔انٹرنیشنل عیسائی مشنری بورڈ، یہ
امریکہ کے پروٹسٹنس عیسائیوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے، 2۔ مشرقی وسطی اور شمالی
افریقین کونسل، 3۔نارتھ کارولینا صوبہ کا عیسائی گروپ، 4۔امریکین تعاون بورڈ، 5۔
کرشنا نیٹی ورلڈ نیشن انٹرنیشنل تنظیم، 6۔بائبل عالمی برادری تنظیم، 7۔ ڈاو تنظیم،
8۔ سامرٹیان پیرس تنظیم، 9۔ پروٹسٹائیٹ عیسائی مبلغین تنظیم، 10۔پوپ جان حنا،
11۔عیسائی مبلغہ جاکی کون، 12۔ بین الاقوامی گلوبل مشن یونٹ عیسائی تنظیم۔یہ ساری
عیسائی تنظیمیں عراق میں سرگرم ہیں۔ اور ان سب کی نگرانی عراق ریلیف سنٹر افس نامی
مرکزی ادارہ کر رہا ہے۔ اور ان ساری تنظیموں کا عراق میں داخلہ انسانی امداد کے
عنوان سے ہوا ہے۔ عام انسانی برادری کا ان تنظیموں کے تعلق سے یہی تاثر ہے کہ یہ
جنگ اور تشدد کے متاثرین کی امداد کررہی ہیں۔
عراق میں موجود امریکی عہدیداروں کو عراق میں عیسائی مشنریوں کی سرگرمیوں کا اعتراف
ہے لیکن یہ عہدیداران تنظیموں کے تعلق سے یہی تاثر دیتے ہیں کہ یہ عراق میں ریلیف
سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں نہ کہ عیسائیت کی تبلیغ۔ امریکی عہدیدار کہتے ہیں کہ
عراقی باشندے ان عیسائی تنظیموں سے خوش ہیں، ایک حکومتی ذمہ دار نے امریکہ کے ٹائم
میگزین سے ذکر کیا کہ چونکہ صدر بش اور صہیونی مسیحی دائیں بازو کے درمیان خوشگوار
تعلقات ہیں اس لئے وائٹ ہاوس کیلئے ممکن نہیں کہ عیسائی تنظیموں کو عراق میں داخلہ
سے منع کرے۔ حیدرآ باد کے منصف کے کالم نگار سعید احمد ومیض ندوی کی رپورٹ کے مطابق
عراق میں کام کرنے والی عیسائی تنظیموں کا یہ اہم ذریعہ ہے۔ عراق میں سرگرم ایک اہم
عیسائی کارکن جیم واکر جو 45 ہزار صندوق غذائی مواد لے کر عراق میں داخل ہوا تھا
کہتا ہے کہ میری کئی ایسے عراقی بچوں سے ملاقات ہوئی جو بھوک سے قریب المرگ ہو چکے
ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کی اولین ضرورت کھانا نہیں ہے بلکہ یسوع کی محبت کو
پہچاننا ان کی اصل ضرورت ہے۔
عیسائی تنظیمیں جنگ سے متاثر عراقیوں کو مفت علاج فراہم کرکے ان سے قریب ہوئی ہیں۔
نیز آپریشن کے ضرورت مندوں کا آپریشن کرایا جاتا ہے۔ علاج و معالجہ اور طبی امداد
کی فراہمی عیسائی مشنریوں کا انتہائی موثر حربہ ہے۔ بیماریوں سے کراہتے ہوئے افراد
کو جب فری علاج کراکے انہیں نئی زندگی عطا کی جاتی ہے تو وہ اپنے محسنوں کی ہر چیز
قبول کرنے کیلئے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ عراق میں متاثرین کو غذائی مواد فراہم کرنے والے
عیسائی مبلغین اس کا خاص اہتمام کرتے ہیں کہ مقامی تعلیم یافتہ طبقہ سے روابط
بڑھائے جائیں۔ اس لئے کہ تعلیم یافتہ طبقہ اگر عیسائیت سے متاثر ہوا تو اس کے دور
رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ عیسائی مشنریوں کا مقصد عیسائیت سے متاثر ایک تعلیم یافتہ
نسل تیار کرنا ہے۔ چنانچہ اب تک عیسائی مشنریوں کی جانب سے تعلیمی اداروں اور مدارس
اور اسکولوں کو ملیوں ڈالر کی امداد کی جا چکی ہے۔
عراق میں سرگرم عیسائی مشنریاں عیسائی لٹریچر کی ترویج کا خاص اہتمام کرتی ہیں۔ جو
چھوٹی چھوٹی کتابوں، پمفلٹس اور ویڈیو فلموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ حضرت عیسیٰ کے غیر
مصدقہ واقعات کی فلمبندی کرکے ایک فلم یسوع کے نام سے بنائی گئی اور 70 سے زائد
زبانوں اور 200 سے زائد مقامی لہجوں میں اس فلم کو نقل کیا گیا۔ عراق میں یہ فلم
عراقی لہجہ میں نقل کی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اربیل کے راستے سے عراق میں بائبل کے
ایک لاکھ سے زائد نسخے عراق منتقل ہو چکے ہیں۔ عراق میں بائبل کے نسخوں کی قیمت بہت
زیادہ ہے۔ بچوں کے اذہان صاف تختی ہوتے ہیں جن پر جو کچھ لکھا جائے نقش ہو جاتا ہے۔
بچوں کی نفسیات کے پیش نظر مشنریاں ان میں بالتصویر عیسائی کہانیاں تقسیم کرتی ہیں۔
جس سے بچے عیسائیت سے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ سارے عالم میں مشنریاں عیسائیت کی ترویج
کیلئے ٹی وی چینلوں اور ریڈیو اسٹیشنوں کا قیام عمل میں لارہی ہیں۔عراق میں بھی اس
قسم کے چینلس کا آغاز کیا جارہا ہے۔ مثلا محبت کی آواز، اور ریڈیو یوسوا کے نام سے
دو ریڈیو عراق میں کام کررہے ہیں، اسی طرح الحرہ اور آثور نامی دو عیسائی چینلس 24
گھنٹے عیسائیت کے پرچار میں مصروف ہیں، شروع ہی سے ان مشنریوں کو اقوام متحدہ کا
بھر پور تعاون حاصل ہے۔
اقوام متحدہ مغربی ممالک کا دست نگر ادارہ ہے اس لئے اسے ہر اس پالیسی کی تائید
ناگزیر ہوتی ہے جو مغربی ممالک کے منشا کے مطابق نہ ہو۔ اقوام متحدہ کے سابق
سکریٹری جنرل کوفی عنان نے عراق میں عیسائی مشنریوں کے کردار کی بھرپور ستائش کی
تھی۔ شمالی عراق میں مشنریوں کو اقوام متحدہ کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ عراق کے کرد
علاقے میں عیسائی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ کردستان کا علاقہ بری طرح عیسائی مشنریوں
کی زد میں ہے۔ گلوبل مشین یونٹ عالمی عیسائی سینٹر نے اپنی ایک رپورٹ میں ان تمام
عیسائی تنظیموں کی فہرست پیش کی ہے جو شمالی عراق اور کردستان میں سرگرم ہیں۔ جس کی
تفصیل حسب ذیل ہیں۔ جمعیت کتاب مقدس، اس تنظیم کا آفس عراقی شہر ازبیل میں واقع ہے۔
اس کا سارا لٹر یچر عراقی وزارت ثقافت کے پریس سے شائع ہوتا ہے اور یہ تنظیم منظم
انداز میں عیسائیت کی تبلیغ کررہی ہے۔ 1۔ برطانوی تنظیم برائے فروغ خدمات مشرقی
وسطی۔ اس کا صدر دفتر قاہرہ میں ہے۔ اس کے تین آفس عراق میں ہیں۔ ایک اربیل میں،
دوسری دھوک اور تیسری سلیمانیہ شہر میں ، یہ تنظیم اپنی ساری سرگرمیاں تنظیم کے
ناظم اعلی ڈاکٹر الکسندرل رسل اربیل کی صلاح الدین یونیورسٹی کے آرٹ کالج میں
بحیثیت استاد خدمات انجام دیتے ہیں۔ 2۔تنظیم سرچشمہ حیات۔ یہ ایک امریکن عیسائی
تنظیم ہے جس کا دفتر اربیل شھر سے قریب ثقلاوہ شھر میں ہے۔ اس تنظیم کو امریکی
وزارت خارجہ کے تحت چلنے والے انسانی امداد کے ادارہ او ایف ڈی اے سے راست امداد
حاصل ہوتی ہے۔ 3۔ بین الاقوامی طبی کاروان تنظیم۔ اس کا صدر دفتر امریکہ کے
بورتلانڈ شھر میں واقع ہے۔ خلیج کی دوسری جنگ میں اس تنظیم سے وابسطہ ڈاکٹروں کی
ٹیم امریکی فوج کے ساتھ عراق پہونچی تھی۔ یہ بھی او ایف ڈی اے سے راست امداد حاصل
کرتی ہے۔ اس کے عراق کے سلیمانیہ اربیل زاکو اور دھوک شہروں میں چار ا?فسس کام کرتے
ہیں۔ 4۔ المصادر برطانوی تنظیم۔ یہ تنظیم کمپیوٹر اور انگریزی سکھانے کا کام کرتی
ہے۔ اس کی بہت سے شاخیں کام کرتی ہیں۔ صدر دفتر ثقلاوہ شھر میں قائم ہے۔ 5۔کارتیاس،
قاہرہ سے شائع ہونے والے ایک عیسائی میگزین نے اپنے شمارہ میں نمبر 47 میں لکھا ہے
کہ کارتیاس نامی کیتھولک عیسائی تنظیم نے اپنے عراقی افیسس کے تعاون اسی طرح ترکی
شام لبنان اور القدس میں قائم اپنی شاخوں کے تعاون سے انسانی امداد کا کافی مواد
جمع کیا ہے۔ جس سے نصف ملین عراقی باشندوں کی ضروریات کی تکمیل کی جاسکتی ہے۔
کارتیاس کے قاہرہ افیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ کارتیاس عراق میں گذشتہ 20 سال
سے کام کررہی ہے لیکن دوسری خلیجی جنگ کے بعد اس کی سرگرمیوں میں کئی گنا اضافہ ہوا
ہے۔ بالخصوص شمالی عراق میں جو عیسائی سرگرمیوں کیلئے زرخیز علاقہ تصور کیا جاتا
ہے۔ 6۔ اے سی او آر این تنظیم۔ یہ ویٹیکن سٹی کے تعاون سے چلتی ہے۔ اس نے اب تک
دسیوں کرد مسلمانوں کو عیسائی مشنری کیمپوں میں تربیت دیا ہے۔ ماہانہ 600 ڈالر
مشاہرہ کے ساتھ کرد مسلمانوں کو عیسائیت کی تبلیغ کیلئے استعمال کرتی ہے۔ ممتاز
قابلیت رکھنے والے مسلمانوں کا انتخاب کرکے انہیں ویٹیکن سٹی روانہ کیا جاتا ہے
تاکہ وہاں ایک عرصہ تک تربیت پاکر عیسائی مبلغ بن کر آئیں۔الوعی الاعلامی نامی
میڈیا سنٹر کے مطابق اس تنظیم کے تربیتی کیمپ تین علاقوں میں قائم ہیں، 7 دھوک شہر
میں جہاں کا ذمہ دار یوسف نامی عیسائی ہے، 8 عنیکا وہ شھر ہے جس کا ذمہ دار فرید
نامی عیسائی ہے، یہ اٹالین ہے اربیل میں مقیم ہے۔ 9۔ محلتہ آشتی ، سلیمانیہ شہر کا
ایک علاقہ ہے اس کا ذمہ دار کاظم بغدادی نامی شخص ہے جو کچھ عرصہ قبل عیسائی بن گیا
تھا۔ |
 |
|
|