رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

05 March 2008 / 26 Safar 1429

تحریر:ممتاز حیدر
Email-mhaider84@gmail.com
0321-5473472


ناموسِ رسالت کا تحفظ سیرت رسول سے

ڈنمارک کے اخبارات نے دوبارہ گستاخانہ خاکے شائع کرکے امتِ مسلمہ کے عزمِ جہادکو بیدار ہونے کے لئے مجبور کردیا ہے۔خاکوں کا دوبارہ شائع ہونا امت مسلمہ اور مسلم حکمرانوں کے منہ پر پُرزورطمانچہ ہے کیونکہ پہلی مرتبہ گستاخی کرنے پرڈنمارک اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ سخت رویہ رکھا جاتا، تجارتی و سفارتی تعلقات منقطع کئے جائے۔ مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے تو آج ان کو دوبارہ ےہ گستاخی کرنے کی ہمت نہ ہوتی وہ تو مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور مسلمان ان کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں۔

ےہودونصاریٰ کی اسلام دشمنی صدیوں سے چلتی آرہی ہے۔ مذکورہ خاکے آزادی صحافت کا اظہار نہیں بلکہ اسلام دشمنی کا ثبوت اور کھلی دہشت گردی ہیں۔ مغرب تو اسلام کو مٹانے پر تُلا ہوا ہے۔ مگر اسلام کے محافظ، حقیقاً اسلام کا دفاع نہیںکرپار ہے۔

بابری مسجدکی شہادت، قرآن مجید کی توہین ، بیت اللہ کی توہین، گستاخانہ خاکوں کی بار بار اشاعت ،امت مسلمہ کا ہر فرد خون کے آنسو رورہا ہے۔ مگر کوئی کردار ادا نہی کررہا۔

ہر معاملے پر پوری مسلم دنیا میں مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے نعرے لگاکر گلے پھاڑے جاتے ہیں۔ حرمت رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بھی قربان ہے۔ ڈنمارک کا ایک علاج ، الجہاد الجہاد.... ودیگر نعرے لگتے ہیں۔ کفن پوش مظاہرے کئے جاتے ہیں ۔ ایک جماعت ریلی کا اعلان کرتی ہے تو باقی جماعتوں کے کارکنان گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں کیا ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ صرف ایک جماعت کا مسئلہ ہے ۔؟

تمام جماعتیںاقتدار کو حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے قدموں میں گررہی ہیں مگر افسوس کرسی کے لالچ میں انہیں ناموس رسالت کا تحفظ یاد نہیں ، لال مسجد اور اسلامی نظام کے نفاذ کے خلاف ملین مارچ کرنے والے اور اپنے آپ کو ایمان کے ٹھیکیدار کہلوانے والے بھی آج گستاخانہ خاکوں پر خاموش ہیں ان کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔

جہاں مغرب کی طرف سے اسلام دشمنی ظاہرہورہی ہے۔ وہیں مسلمان بھی اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ایک طرف تحفظِ ناموس رسالت کیلئے ریلیاں،ناموس رسالت پر جانیں لٹانے کا عزم، لیکن خود سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کے لئے تیار نہیں ہاتھ میں پرچم اٹھائے گلے میں ٹائیاں اور ماتھوں پر سیاہ پٹیاں جن پر درج ”پروانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم “دیوانہ وار نعرے لگارہے ہیں۔ جن کو دیکھ کر پتہ چلتا تھا کہ ےہی پروانے ہیں مگر ان کی حالت.... ایک طرف تو ناموس رسالت کے نعرے لگائے جارہے ہیں اور دوسری جانب سیرت وصورت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین بھی کی جارہے ہں کیا داڑھی کٹواکر، شیو بناکر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی جاسکتی ہے؟

کیا مغرب کا نظام اپنا کر اور سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر دفاع اسلام کے لئے جانیں لتائی جاسکتی ہیں؟ نمازوں کے اوقات میں حی علی الصلاة کی آواز سن کر وہی دیوانہ وار نعرے پھر دھواں دھار تقریریں اور گھروں کو واپسی، مسجد میں نماز ادا کرنے کی توفیق نہیں کیا،ایسے حال میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ ممکن ہے؟ڈنمارک تو غیرمسلم ہے اگر وہ گستاخی کرے تو اتنے دکھ کی بات نہیں (گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انجام قتل ہے) لیکن اگر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحفظ کے نعرے لگانے والے بھی عمل میںسیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کریں اسلامی نظام کی بجائے مغرب کے نظام کو ترجیح دیں تو انتہائی افسوس کی بات ہے۔

پورے ملک بلکہ مسلم دنیا میں غم وغصے کی لہرچھائی ہوئی ہے جو صرف مظاہروں تک محدود ہے صلاح الدین ایوبی اور غازی عبدالقیوم شہید،غازی علم الدین شہید، عامر چیمہ شہید، سمیت دیگرمحبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے تو دےئے جاتے ہیں مگر ان کے کردار کو اپنانے کی کوشش نہیں کی جاتی، الجہاد الجہاد کے نعرے تو بلند ہوتے ہیں مگر گھروں میں دنیا کی آسائشیں ان نعروں کو صرف زبانوں تک ہی محدود رکھتی ہیں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جان بھی قربان ہے کے ولولہ انگیز نعرے مگر سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانے کے لئے کوئی تیار نہیں اس وقت امت مسلمہ کو بے شک عامر چیمہ شہید، صلاح الدین ایوبی، غازی عبدالقیوم شہید کی ضرورت ہے مگر وہ کہاں سے آئیں گے موجودہ نسل تو مغرب کی دلدادہ ہے۔ ضروری ہے کہ مغرب کی تہذیب وثقافت کو اپنے اوپر مسلط کرنے کی بجائے اسلامی تہذیب کو اپنانا ہوگا۔ سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنانا ہوگا۔پھر تب ان گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ توڑ جواب دیا جاسکتا ہے کہ تم جتنی گستاخیاں کرلو ہم سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا اور دینِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی ہیں جو گستاخی برداشت نہیں کریںگے۔

موجودہ صورتحال میں ہمارے نعرے کھوکھلے ہیں مغرب ان نعروں سے خوفزدہ نہیں ہے۔ مغرب امت مسلمہ کے گفتار سے نہیں کردار سے خوف ذدہ ہے وہ تو داڑھی اورنقاب والے مسلمان مرد وزن سے خوفزدہ ہے۔ جنکے سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا کر تکبیر کا نعرہ بلند کرنے سے مغرب کے ایوانوں میں زلزلہ آسکتا ہے اور اگر آج امت مسلمہ نے اپنے آپ کو سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وسلم میں نہ ڈھالا تو ان کی گستاخیاں بڑھتی جائیںگی اور پھر
تمہاری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035