رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

19 March 2008 / 11 Rabi-ul-Awal 1429

تحریر:ممتاز حیدر
Email-mhaider84@gmail.com
0321-5473472


کب تک چلے گا؟اسلامی دہشت گردی کا پروپیگنڈہ
 

دور حاضر میں افق علم پر دہشت گردی کے سائے بتدریج گہرے ہوتے جارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں مغربی ممالک اور عالمی ذرائع ابلاغ کو شبہ مسلم جماعتوں اور ملکوں پر ہے۔ ان کی نظر میں اسلام اور مسلمان ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ باقی دنیا میں بھی یہ خیال تقویت پاتا جارہا ہے کہ آج اسلامی دہشت گردی عروج پر ہے اور اس سے پوری دنیا کو خطرہ لاحق ہے۔اسلامی دہشت گردی کی خود ساختہ اصطلاح کا خوب پروپیگنڈہ کرنے اور پھر متعدد ممالک کے اس پر اتفاق کرلینے کے بعد اسلام دشمن طاقتوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم کارروائیاں کرنے کا موقع میسر آگیا۔ چنانچہ ساری دنیا میں اسلام پسندوں کا تعاقب کیا جانے لگا تاکہ ان کی زندگیوں کو اجیرن کرنے کے لیے ان پر شک کی مہر ثبت کردی جائے۔ امریکہ و برطانیہ کی قیادت میں درجنوں ممالک نے اس خطرناک مہم میں بھر پور حصہ لیا اور کئی ممالک کو زیر و ز بر کرڈالا۔بعض دیگر مسلم ریاستوںمیں بھی امریکی و برطانوی کارروائیاں کسی نہ کسی انداز میں جاری ہیں اور نہ جانے کب تک جاری رہیں گی۔ تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے مسلمانوں کو بھی دہشت گردی کی زد میں لینے کی پوری کوشش کی جارہی ہے،مسلم نوجوانوں کو اٹھایا جارہا ہے اور دینی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے بتایا جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جدید دنیا جس مذہب کو عالمی دہشت گردی کا محور قرار دے رہی ہے ، کیاو ہ مذہب فی الواقع دنیا میں بد امنی، بے چینی وتخریب کاری پھیلانے کی تعلیم دیتا ہے جب کہ اس کا دعوی ہے کہ وہ ’’ امن پسند‘‘ ہے، اس کی تعلیمات ، اس کا فلسفہ حیات اور اس کے اصول و ضوابط سب کے سب ’’دہشت گردی ‘‘ کے خلاف ہیں بلکہ اسلامی تاریخ ، تہذیب ا ور تعلیم کی روشنی میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اسلام ہی درحقیقت امن کا علمبردار و آئینہ دارہے۔ اس کی کوششیں ہی امن پھیلانے میں موثر ثابت ہوسکتی ہیں اور اسی میں وہ صلاحیت ہے جو دہشت گردی جیسے خطرناک مرض کی تشخیص وعلاج کرسکے۔اس کے علاوہ دنیا میں کوئی ایسا نظام رائج نہیں ہے جو دہشت گردی کا سدباب کرسکے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب دنیا میں اسلام کے اثرات پائے جاتے تھے، اس وقت ہرطرف امن نظرآتا تھا ، عوام الناس کو انصاف ملاکرتا تھا ، عدل ومساوات قائم تھا ، محبت و یگانگت عروج پر تھی ، امیر وغریب ، بادشاہ و فقیر ، چھوٹے اور بڑے کا فرق نہ تھا۔ جہاں جہاں اسلامی حکومتیں قائم تھیں ، وہاں زناکاری، فحاشی ، ڈکیتی و چوری کا شرح فیصد آج کے مقابلے میںصفر تھا۔ خلفائے وقت بنا سیکورٹی دستوں کے تنہا گلی کوچوں میں گھومتے ، بازاروں میں جاتے اور سودا سلف خود ہی لاتے تھے۔کانفرنسوں ، جلسوں ا ور بڑے بڑے اجتماعات میں شرکت کرتے مگر اپنے ساتھ باڈی گارڈ نہ رکھتے۔ کسی جگہ کا دورہ کرتے تو ان کے حفاظتی انتظام پر کچھ خرچ نہ ہوتا۔ ان کے دور میں ہر شخص مامون و محفوظ تھا ، کسی کو کسی طرح کا خطرہ لاحق نہ تھا۔ کیا ایسی مثالیں اس کے بعد دیکھی گئیں؟ کیا آج جب کہ دنیا کی لگام مغرب کے ہاتھوں میں ہے، مغرب اسلامی دورجیسی امن کی کوئی ایک مثال پیش کرسکتا ہے؟ حالانکہ آج اسے دعوی ہے کہ وہ ترقی یافتہ ہے، اس کے پاس وسائل وذرائع ہیں۔ دیگر ادوارکی بنسبت اس دور میں زیادہ روشن خیال افراد موجود ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ جب سے دنیا کی باگ ڈور مغربی ممالک کے ہاتھوںمیں آئی ہے اس وقت سے بدامنی میں اضافہ ہورہاہے، تخریب و دہشت کو بڑھاوامل رہا ہے ، بدعنوانی ، زناکاری اورفحاشی اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے، انسانی اقدارو حقوق کو پامال کیا جارہا ہے اور عدم تحفظ کا عالم یہ ہے کہ چھوٹے سے عہدے پر فائز شخص کو بھی اپنے پاس باڈی گارڈ رکھنے پڑتے ہیں۔ انصاف کاتقاضہ ہے کہ اہل دنیا دہشت گردی کو اسلام کیساتھ جوڑنے سے پہلے پوری دیانتداری و ایمانداری سے ہر پہلوکی تحقیق کریں اور سمجھیں کہ دہشت گردی کیاہے ؟ کیسے اس کے مفہوم میں تبدیلی کی گئی اور پھر چالاکی سے اس کو کس طرح اسلام کی پیشانی پر چسپاں کردیا گیا؟ نیز اسلامی دور اور موجودہ دور کو سامنے رکھ کر پورے انصاف کے ساتھ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ اصل دہشت گرد کون سے ممالک ، اقوام یا گروہ ہیں؟

’’ دہشت گردی‘‘ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے ’’بے قصور معصوم افراد و اقوام کو بے وجہ ہراساں وپریشان کرنا ، لوگوں پر دھاندلی اور زبردستی کرنا ، ناجائز مقاصد کی تکمیل کے لیے انہیںدبانا، ستانا ہیبت پھیلانا وغیرہ‘‘ اب وہ تکلیف پہنچانا کسی ایک فرد کی جانب سے ہو یا کسی حکومت و تنظیم کی طرف سے، ایسے ہی وہ تکلیف کسی بندوق ، بم ، راکٹ کو استعمال کرکے پہنچائی جائے یا ہاتھ و زبان کو حرکت دے کر ، یہ سب دہشت گردی کے زمرے میںداخل ہیں۔ البتہ اگر ظالم کے ظلم کو ختم کرنے کے لیے ، فتنہ و فساد کو دبانے کے لیے اور نوع انساںکو خطرے سے بچانے کے لیے طاقت کا ا ستعمال کیا جائے تو وہ دہشت گردی کے مفہوم میں داخل نہیں ہے۔

جہاں تک اسلام کے ساتھ دہشت گردی کے جوڑ کی بات ہے تو یہ سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ اسلام کا دہشت گردی سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ دونوں آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ کیونکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جس کے جزجز میں سلامتی ہے۔ اسلام عربی زبان کا لفظ ہے ، جس کا مادہ ’’س ل م‘‘ہے، جس کا مطلب سلامتی ہے اور اس کے احکامات ’’ ا من پسندی‘‘ کی ضمانت ہیں ، جب کہ دہشت گردی میں سراسر ہولناکی اور ہیبت ہے۔ مارکاٹ ، قتل وغارت گری ، ظلم وتشدد ، بے راہ روی اور انسان دشمنی سب دہشت گردی کے مفہوم میںداخل ہیں۔ پھر کیوں کر اسلام کو اس کی ضد کے ساتھ جوڑاجارہا ہے؟اسلام نے قیام ا من کے لیے انصاف پر زور دیا۔کیونکہ انصاف قیام امن کے لیے ایک نسخۂ کیمیا ہے۔اسی لیے دور اسلام میں عدل وانصاف کی مثالیں بڑی تعداد میں نظر آتی ہیں۔ آج کی دنیا کی کمزوری یہ ہے کہ وہ انصاف پسند نہیں ہے۔ بھائی بھائی کے ساتھ، ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ اور ایک ملک دوسرے ملک کے ساتھ ناانصافی سے کام لیتا ہے۔ علاقائی سطح سے لے کر عالمی سطح تک کی عدالتوں میں انصاف کا فقدان ہے۔ انصاف کے قیام کے ساتھ دین اسلام نے ایک اور چیز پر بڑی توجہ دی ہے اور وہ ہے ظلم کا خاتمہ۔ اگر دنیا سے ظلم ختم ہوجائے تو دہشت گردی کا نام ہی مٹ جائے۔ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ لوگوں کی روش پر چلنے والے نہ بنو کہ یوں کہنے لگو کہ اگر لوگ حسن سلوک کریں گے تو ہم بھی کریں گے اور اگر وہ ظلم کریں گے تو ہم بھی کریں گے۔ نہیں ، اپنے آپ کو اس بات کے لیے تیار کرو کہ اگر لوگ حسن سلوک کریں تو تم حسن سلوک کرو اور اگر وہ بدسلوکی کریں تو تم ظلم نہ کرو‘‘(ترمذی شریف) ۔

رہا اسلام میں ’’ جہاد‘‘ کا تصور تو یہ خود قیام امن کے لیے ہے نہ کہ دہشت گردی یا خوں ریزی پھیلانے کے لیے۔ حالانکہ اسلام دشمن جماعتیں اسلام کا تعلق دہشت گردی سے جوڑتے وقت سب سے پہلے اسلام کے نظریہ جنگ (جہاد) کی بات کرتی ہیں کہ اسلام اپنے پیروکاروں کو ’’ جہاد‘‘ کا تصور دے کر انہیں مارکاٹ میں جھونک دیتا ہے۔ بات بات پر تلوار اٹھانا اسلام میں روا ہے۔ دراصل ان کی یہ سوچ کم علمی یا عصبیت پر مبنی ہے ، اس لیے ناقص ہے۔ اسلام کا ’’ نظریہ جنگ‘‘ سے مقصد دہشت پھیلانے کا ہے ہی نہیں بلکہ اس کا مقصد جہاد کے ذریعہ سلامتی ، امن اور انصاف قائم کرنا ہے، دنیا سے فساد ،خون ریزی ، لوٹ مار، ظلم و تشدد بے جامن مانی اور شرپسندوں کی دھاندلی کو ختم کرنا ہے۔

١١ ستمبر کے بعد سے امریکہ اور اس کے ہمنوا ممالک نے باقاعدہ دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ کے نام پر دنیا بھر میں خصو صا عالم اسلام میں دہشت پھیلانی شروع کردی ہے۔ مسلمان جہاں کہیں بھی ہیں امریکہ سے خوفزدہ وسراسیمہ ہیں۔ افغانستان کے بعد اب امریکہ ہرملک میں اسلام پسندوں کا تعاقب کر رہا ہے۔ کیا اسے دہشت گردی نہیں کہا جائے گا؟ ا من و انصاف پسند لوگ غور کریں کہ امریکہ و برطانیہ ، روس اور دیگر مغربی ممالک نے کس طرح اپنے پڑوسی ممالک پر ظلم کیا ، کس بڑے پیما نہ پر انہوں نے داداگیری سے کام لیا۔ یقینا یورپین ممالک کے حالات کو سامنے رکھ کر ہر منصف مزاج شخص یہ نتیجہ اخذ کرنے سے قاصر نہیں رہے گا کہ جو آج امن کے دعویدار ہیں وہ خود دہشت گرد ہیں اور رہا اسلامی دہشت گردی کا سوال تو اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ محض ایک فریب ہے ، جو مغرب کی طرف سے عوام الناس کو دیا جارہا ہے تاکہ ان کا اپنا حقیقی بھیانک چہرہ بے نقاب نہ ہوجائے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035