رابطہ رہنمائے کراچی کالم /فیچر علم و ادب خواتین اسلام صفہ اول

16 June 2008 / 10 Jamadil Akhir 1429

رپورٹ : انیس منصوری

کراچی میں اسلحہ کی اسمگلنگ اور حکومتوں کے چشم پوشی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں بھاری مقدار میں قانونی و غیر قانونی اسلحہ موجود ہے۔

پاکستان میں ہر نئے سورج کے ساتھ مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور زندگی گزارنے میں مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات میں اضافے، خوراک اور غذا کے بحران کے ساتھ گرم مہینوں میں بجلی کی بھی کم آمد سے سب سے زیادہ شہروں میں مشکلات ہیں اور خصوصاً کراچی میں جہاں اب بجلی کبھی کبھی آتی ہے اور آٹا ناپید ہو گیا ہے۔ اس شہر میں پہلے آٹا گولی سے سستا ہوتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ اس شہر میں کوئی پانچ روپے میں بھی اپنا پیٹ پال سکتا ہے، وہاں اب آٹا مہنگا اور گولی سستی ہو گئی ہے۔

کراچی میں زیادہ تر اسلحہ ڈیلرز صدر کے علاقہ میں موجود ہیں۔ ان کے پاس پشاور، واہ کینٹ اور چین کی گولیاں اور پستول موجود ہیں۔ یہ ڈیلرز عام طور پر لائسنس میں موجود گولیوں کا کوٹہ دیکھ کر گولیاں فراہم کرتے ہیں۔

کراچی کی آبادی غیر سرکاری تخمینوں کے مطابق ایک کروڑ ستر لاکھ کے قریب ہے اور اتنی ہی تقریبا گولیاں اس شہر میں موجود ہیں۔ اوسطاً ایک خاندان سات افراد پر مشتمل ہے۔یہاں تقریبا ًچھوٹا بڑا تمام اسلحہ موجود ہے۔ شہر میں ہر روز تقریبا 5 لوگ کینسر سے ہلاک ہوتے ہیں اور ہر روز کراچی میں گولی لگنے سے زخمی ہونے والے بھی سرکاری اسپتالوں میں آتے ہیں جن میں سے 2 ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کراچی میںہر روز سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اوسطاًپانچ چھوٹے یا بڑے ترقیاتی کاموں کا آغاز کرتی ہے جبکہ ہر روز اس شہر میں 8 نئے لائسنس اسلحہ کے بنائے جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگوں کے شہر میں ہر ہزار افراد میں ایک پوسٹ گریجویٹ ہے جبکہ ہر 10 افراد میں سے ایک کے پاس قانونی یا غیر قانونی اسلحہ موجود ہے۔ اس شہر میں تقریبا 120 سے زائد سرکاری اور نجی کالجز ہیں، دوسری جانب 160 افراد کے پاس اسلحہ ڈیلر کے لائسنس ہیں۔ ایک لاکھ چھیانوے ہزار دو سو سےنتیس (1,96,237) گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں۔ اس سے زائد اسلحہ لائسنس ہیں۔ شہر میں 5 لاکھ کمپیوٹر ہیں لیکن اسلحہ کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہیںہوا۔ سب سے زیادہ دفاعی بجٹ کے شیئرز کے ساتھ کراچی کی مارکیٹ میں سب سے زیادہ گولیاں بھی واہ کینٹ فیکٹری کی مشہور ہیں۔ منشیات فروشوں اور کچھ جماعتوں کے کارکنوں کے پاس وہاں کی بنی ہوئی غیر ممنوعہ بور کی G-3 ، LMG کے ساتھ اس کی گولیاں بھی ہیں جو اس شہر کے لوگوں نے 12 مئی 2007ءکے علاوہ بھی کئی بار دیکھی ہیں۔ شادی کی تقریبات اور جلسے جلوس کے علاوہ اپنے علاقوں کی نگرانی پر مامور مختلف سیاسی جماعتوں کے پاس بڑی تعداد میں رپیٹر، کلاشنکوف، G-3 ، LMG اور اسرائیلی ساختہ اووزی اکثر ہی دیکھی جاتی ہیں جوکہ تمام غیر ممنوعہ بور کا اسلحہ ہے جس کی اجازت صرف سرکاری اداروں کو ہے۔ یہ تمام اسلحہ قبائلی علاقوں، آرمی کی دو فیکٹریوں اور امپورٹ کے ذریعہ یہاں آیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس کی گولیاں بھی باآسانی مل جاتی ہیں۔

غیر ممنوعہ اسلحہ میں 30 بور اور 32 بور کی ٹی ٹی پستول 9mm اور .222 شامل ہیں جن کا لائسنس ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت میں اسلحہ کے لائسنس کے حوالے سے تین کوٹے مختص ہیں جن میں ہو م منسٹر، ہوم سیکریٹری اور DCO کے لائسنس شامل ہیں۔ نئے بلدیاتی نظام سے قبل کراچی میں پانچ ڈپٹی کمشنر (DC) ہوتے تھے جن کے پاس یہ کوٹہ ہوتا تھا لیکن نئے نظام میں ایک DCO بنایا گےا جس کو 2001ءمیں ہر مہینے 60 لائسنس دینے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد 2004ءمیں یہ کوٹہ اس وقت کی حکمران جماعت MQMکی سفارش پر بڑھا کر 100کیا گیا۔ 2005ءمیں 125اسلحہ لائسنس ہر مہینے، 2006میں صرف DCOکے کوٹے سے سات سالوں میں 9 ہزار سے زائد اسلحہ کے لائسنس دئیے گئے۔ نومبر میں نگران حکومت کے قیام کے بعد صوبائی وزیربریگیڈئیر اختر ضامن نے DCOکے کوٹے پر پابندی لگادی جو دو ماہ برقرار رہی لیکن انہوں نے ہوم سیکریٹری اور ہوم منسٹر کے کوٹے کو ختم نہیں کیا۔ دو ماہ کی پابندی کے خاتمہ کے بعد دسمبر میں DCO کے کوٹے کو بحال کیا گیا اور پھر صوبائی نگران وزیر داخلہ نے ایک سیاسی جماعت کے ساتھ اپنی مکمل وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے جاتے جاتے جہاں بہت سے کام کئے وہاں صرف مارچ2008ءکے مہینے میں 390جبکہ اپریل میں 287اسلحہ لائسنس جاری کئے۔

اسلحہ کے زیادہ تر لائسنس ا ±س دور میں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر دیئے گئے۔ DCOکوٹے کے بعد ہوم منسٹر اور ہوم سیکریٹری کے کوٹے یوں تو 100اور 150کے درمیان رہے لیکن مختلف اوقات میں یہ لائسنس جاری ہوتے رہے، اس طرح کراچی میں پچھلے6سالوں میں بے تحاشا لائسنس دیئے گئے۔ ہوم منسٹر اور ہوم سیکریٹری کے علاوہ اس سلسلہ میں DCO آفس کے عملے کا اہم کردار ہے۔ مختلف ذرائع سے اسلحہ لائسنس بنانے کے خواہش مند جب یہاں رابطہ کرتے ہیں تو اس کے لئے کی گئی ادائیگی میں فیس سے زائد ان کا کمیشن شامل ہوتا ہے جو کہ 10سے 15ہزار روپے صرف 30بور کے لائسنس کے لئے ہے۔ لائسنس کا یہ تمام ریکارڈ DCOکے پاس ہوتا ہے جہاں بڑے بڑے رجسٹروں میں اس کا اندراج کیا جاتا ہے جو کراچی جم خانہ کے قریب واقع DCO آفس کی انتہائی بوسیدہ حالت میں ہے جس کی چھت برسات میں ٹپکتی ہے۔ 10سال پرانے ریکارڈمیں سے اکثرکو دیمک لگ گئی ہے جس کے باعث اس کی جانچ کرنا آسان نہیں اور پرانا ریکارڈ سب ملتا بھی نہیں۔ اس حوالے سے اس محکمہ کو نہ تو کمپیوٹر فراہم کیا گیا ہے اور نہ ہی اس طرح کا ریکارڈ ہوم منسٹری یا ہوم سیکریٹری کے پاس موجود ہیں۔ نئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے باوجود پرانے تمام لائسنس پرانے شناختی کارڈ پر موجود ہیں جن کو ہر سال Renewبھی کیا جاتا ہے۔ کراچی میں زیادہ تر لائسنس صوبہ سرحد اور بلوچستان کے علاقوں کے ہیں، جن میں پشاور، مانسہرہ ، ایبٹ آباد، خضدار اور کوئٹہ اہم ہیں۔ خضدار سے ایک لائسنس 1500روپے میں حاصل کیا گیا جس پر 2002ءکی ایک تاریخ درج تھی جس میں 2007ءتک پوسٹ آفس کی Renewکا اندارج بھی تھا۔ اس کا اندراج کراچی میں ہوم ڈیپارٹمنٹ میں 3000روپے کی رشوت سے کرواکر پوسٹ آفس میں Renewکرایا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ہوم منسٹری کے پاس ایسا انتظام ہی نہیں کہ وہ اس طرح کے لائسنس کی جانچ کے لئے اسے خضدار بھیجے اس لئے اس شخص سے کہا گیا کہ وہ خود جانچ کروا کر جمع کروا دے۔

اس طرح اکثر لوگوں کو علم بھی نہیں کہ ان کا لائسنس جعلی ہے۔ کراچی میں مختلف ڈیلرز، پولیس کے افراد اور سیاسی گروپس اس کام میں فعال ہےں جو کہ پاکستان کے کسی دوسرے شہر کا جعلی لائسنس بنا کر اس کا اندراج کروادیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح پوسٹ آفس کی جعلی اسٹیمپ اور ٹکیٹس بھی موجود ہیں۔ اسلحہ لائسنس میں پستول پر موجود نمبر بھی لکھا جاتا ہے۔ یہ نمبر پستول پر پنچ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی لائسنس پر موجود نمبر کئی پستولوں پر ہوتا ہے، اس کا اندارج بھی جعلی طریقوں سے ہوتا ہے۔ صدر اور شیر شاہ میں یہ پنچ مل جاتے ہیں جن کے ذریعے بڑی مہارت سے کراچی میں 20سے زائد گروپس اندارج کردیتے ہیں۔ Renewکے لئے پوسٹ آفس میں فیس جمع کرائی جاتی ہے جس میں پچھلے سال اضافہ کیا گیا ہے۔ جو اب شارٹ گن کے لئے 500روپے اور 800روپے ہے۔ یہ فیس پوسٹ آفس سے ہوم منسٹری یا سندھ حکومت کے پاس آتی ہے جس کی مالیت سالانہ کروڑوں روپے ہے۔ حکومت کے پاس اسلحہ کا Dataکمپیوٹر میں موجود نہیں۔ کسی پوسٹ آفس کے عملے کی ملی بھگت سے جعلی لائسنس Renewبھی کیا جاتا ہے۔

کراچی میں 160لوگوں کے پاس اسلحہ ڈیلر کا لائسنس ہے لیکن جو ہر سال اپنا لائسنس Renew کراتے ہیںان کی تعداد صرف 70ہے۔یہی 70کے قریب لوگ فعا ل ہیں جو خریداری یا فروخت کا ریکارڈ بھی جمع کراتے ہیں۔ ان میں سے اکثر کے پاس دو یا تین لائسنس بھی ہیں۔ ان کی ادائیگی Renewمیں 3500روپے سالانہ ہے جبکہ یہ 500 روپے میں لاتعداد اسلحہ رکھ سکتے ہیں۔ ان میں سے اکثر پشاور کی فیکٹریوں سے خریداری کرتے ہیں جبکہ درے کا غیر قانونی اسلحہ بھی فروخت کرتے ہےں۔ پورے ملک میں تھوک کے حساب سے 500کے قریب ڈیلرز ہیں جن کا وفاقی حکومت کے پاس بھی ریکارڈ موجود نہیں۔ دو بڑے امپورٹرز ہیں جو کہ اسلحہ روس، چین، اٹلی، امریکہ ، آسٹریا، برازیل اور ترکی سے امپورٹ کرتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تجارت پچھلے پانچ سالوں کے دوران اسلحہ درآمد کرنے کے لئے جاری کئے گئے لائسنسوں اور ان کی مالیت کا ڈیٹا مرتب کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حیرت انگیز طور پر اسلحہ کی امپورٹ کے حوالے سے ڈیٹا ہی موجود نہیں۔ وفاقی سیکریٹری تجارت کے مطابق وفاقی حکومت کے پرائیویٹ طور کے اسلحہ کی درآمد کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کا سوچ رہی ہے اور اس حوالے سے ترمیمی ڈرافٹ بھی تیار کیا جارہا ہے۔

کراچی میں زیادہ تر اسلحہ ڈیلرز صدر کے علاقہ میں موجود ہیں۔ ان کے پاس پشاور، واہ کینٹ اور چین کی گولیاں اور پستول موجود ہیں۔ یہ ڈیلرز عام طور پر لائسنس میں موجود گولیوں کا کوٹہ دیکھ کر گولیاں فراہم کرتے ہیں لیکن اندرون خانہ ان میںسے کئی تعلقات کی بنیاد پر یوں ہی گولیاں فراہم کردیتے ہےں۔ دکانداروں کے مطابق یہ اپنے اسلحہ کا اندارج پہلے ہوم ڈیپارٹمنٹ کراتے ہیں اور کسی کو فراہم کرنے کے بعد اس کی بھی اطلاع وہاں کرتے ہیں۔ کراچی میں اسلحہ کی واحد فیکٹری لانڈھی میں تھی جو اب بند ہوچکی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہوم ڈیپارٹمنٹ کے پاس ان ڈیلرز کا Dataہی نہیں تھا جسے انہوں نے DCOسے ایک خط کے ذریعے طلب کیا۔

ممنوعہ بور میں 30،32، 9mn، .222 اور دیگر مختلف اقسام موجود ہیں۔ ان میں ایک بور جو قبائلی علاقوں کی بنی ہوئی ہے اور جسے ”درے“ کی کہا جاتا ہے، عام ہے۔ اس کے علاوہ چین کی بھی بہت زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ سب سے مہنگی امریکن، اٹالین اور روس کی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو امپورٹ کی گئی ہیں لیکن اکثر افغانستان کے راستے آتی ہیں۔ کراچی میں غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ بہت بڑا کاروبار ہے۔ سالانہ ایک ارب سے زائد کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ کراچی میں اسلحہ حب،ساکران اور دادو کے راستوں کے علاوہ لانچوں کے ذریعے بھی آتا ہے۔ عام طور پر یہ اسلحہ مختلف کوچز میں ایک یا دو پستول اور تھوڑی سی گولیوں کی صورت میں آتا ہے لیکن اکثرٹرکس اور پرائیویٹ گاڑیوں میں آتا ہے۔ رحمان ڈکیت کا اس میں ایک اہم کردار ہے۔ کراچی میں تین جماعتوں کے پاس تنظیمی اسلحہ رکھنے کا رواج ہے۔ اس لیے اس میں خریدو فروخت بھی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔ پستول کی اقسام کے مطابق ان کے ریٹ ہیں۔ 30بور کی درے کی پستول500سے 3000تک جبکہ چین کی 5000تک مل جاتی ہے۔ کراچی میں دوجماعتوں کے پاس تنظیمی سطح پر گولیاں ایک ایک یونٹ میں ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ جدید اسلحہ، جس میں ممنوعہ بور بھی شامل ہے، سیاسی جماعتوں اور منشیات فروشوں کے پاس موجود ہے جن میں سے اکثر باہر سے امپورٹ کیا ہوا ہے۔ 12مئی کو استعمال ہونے والے اسلحہ میں G.3 واہ کینٹ کی تھی جب کہ ان میں موجود گولیاں بھی وہیں کی تھیں۔ کراچی میں سب سے اچھی گولیاں واہ کینٹ کی تصور کی جاتی ہےںجو غیر قانونی طور پر مل جاتی ہیں۔ کراچی، جہاں راکٹ لانچرزموجود ہیں اور دستی بموں کا استعمال اکثر ہوتا رہتا ہے، وہاں اسرائیل کا اسلحہ بھی موجود ہے۔ ایک مذہبی جماعت کے پاس اووزی جو کہ خالصتا اسرائیل کی گن ہے، بھی موجود ہے۔ لانڈھی میں مقابلے کے بعد گرفتار ہونے والے جند اللہ کے کارکنان کے پاس امریکن پستول دیکھے گئے تھے۔ گولیوں کی فروخت میں اکثر پولیس کے سپاہی بھی شامل ہیں۔

کراچی میں بڑھتی ہوئی ڈکیتی کی وارداتوں کے بعد اسلحہ کی خریدوفروخت میں تیزی آتی ہے جبکہ شادی اورخوشی کی تقریبات میں اسلحہ کے بے دریغ استعمال کے باعث گولیوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ریکارڈ کی عدم ترتیب، کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے اور حکومتوں کی سیاسی مجبوریوں کے باعث کراچی میں اسلحہ کے خلاف آپریشن ممکن نہیں اور نہ ہی کسی بھی واردات کے بعد اسلحہ یا گولی برآمد کرنے کے بعد کسی ملزم تک پہنچنا آسان ہے۔ اسی لئے قاتل چھپ کر قتل کریں یا سیاسی بنیادوں پر کھلے عام، انہیں پکڑنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ کراچی میں آج بھی باقاعدہ یہ کہہ کر بھتہ وصول کیا جاتا ہے کہ اسلحہ خریدنا ہے۔ لیکن حکومت کی جانب سے آنکھیں ایک بار پھر موند لی گئی ہیں اور آئندہ دنوں میں بھی اس سمت پیش رفت کے امکانات نظر نہیں آتے۔

© Copyrights 2007, karachiupdates.com
E-mail:karachiweb@karachiupdates.com  contact: 0321-2422035